|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا مردوں کی روحیں زندہ لوگوں کے پاس آتی ہیں؟

مردوں کی روحیں زندہ لوگوں کے پاس آنا قرآن و سنت کی روشنی میں درست عقیدہ نہیں ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں (قبض کر لیتا ہے) پھر روک لیتا ہے ان (روحوں) کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقررہ مُدّت تک چھوڑ دیتا ہے۔
(الزمر: 42)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ روحوں کو روک لیتا مردوں کی روحیں اپنے اعمال کے مطابق برزخ میں عذاب یا راحت پاتی ہیں اور زندوں کے پاس آنا ان کے لیے ممکن نہیں بلکہ اللہ کی قدرت سے برزخی عالم میں مخصوص حالت ہے۔ قرآن واضح طور پر بتاتا ہے کہ مردے زندوں کے ساتھ تعلق یا ملاقات نہیں رکھتے۔

مزید سوال کریں / اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Are you human? Please solve:Captcha


Log In to Your Account