|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا اہلِ قبور کو اپنی قبروں پر آنے والوں کی حاضری کا علم ہوتا ہے؟

قرآن واضح طور پر بتاتا ہے کہ علم الغیب اور براہِ راست سننے کی صلاحیت صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ مرنے کے بعد کا معاملہ عالم برزخ کا ہے ،جو غیب میں ہے  اس پر قرآن و صحیح حدیث کے مطابق ایمان کافی ہے۔

وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَحْيَآءُ وَلَا ٱلْأَمْوَٰتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَآءُۖ وَمَآ أَنتَ بِمُسْمِعٍۢ مَّن فِى ٱلْقُبُورِ
زندہ اور مردہ برابر نہیں ہو سکتے۔ اللہ جسے چاہتا ہے سنا دیتا ہے، اور  اے نبی!  آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔
 فاطر 22

معلوم ہوا کہ  مردے براہِ راست کسی کی بات سننے کی طاقت نہیں رکھتے، اور اگر کبھی اللہ تعالیٰ کسی مردے کو سناتا ہے تو یہ ایک استثنائی اور معجزاتی صورت ہوتی ہے، نہ کہ مستقل نظام۔ اس لیے یہ کہنا کہ ولی یا بزرگ قبر پر آنے والے لوگوں کی حاضری کو جانتے ہیں یا ان کی دعاؤں کو سنتے ہیں یہ قرآنی عقیدے کے خلاف ہے۔

قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ لَٱسْتَكْثَرْتُ مِنَ ٱلْخَيْرِ
کہہ دیجیے میں اپنے لیے بھی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، سوائے اس کے جو اللہ چاہے، اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت بھلائی جمع کر لیتا۔ الاعراف 188

یعنی نبی ہو یا ولی کوئی بھی اہلِ قبور اپنی قبروں پر آنے والوں کی حاضری اور باتوں کا علم نہیں ہوتا، اور نہ وہ پکار کو سنتے ہیں۔ اگر کسی خاص بندے کو اللہ چاہے تو استثنائی طور پر سنوا دے، یہ شرعی دلیل نہیں بن سکتی کہ مردے عام طور پر زائرین کی باتیں سنتے ہیں۔جبکہ قانون دلیل ہوتا ہے ۔اور قانون مافوق الاسباب پکار سننا اور علم رکھنا وغیرہ سب اللہ کےلئے خاص بیان کرتا ہے لہذامردوں کو پکارنا، ان سے امید رکھنا، یا ان کے سننے پر یقین کرنا یہ سب عقیدہ توحید کے منافی ہے۔ اللہ ہی سننے والا، جاننے والا، اور حاجت روا ہے۔

مزید سوال کریں / اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Are you human? Please solve:Captcha


Log In to Your Account