یَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
جس دن لوگ ربِّ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے
(المطففین :6)
یہ آیت قیامت کے ہولناک منظر اور بندوں کے مکمل حساب کے وقت کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔
اس تعبیر میں تین گہرے معانی شامل ہیں
:اول
یہ اس دن کی ہیبت اورعدلِ الٰہی کی علامت ہے، جب تمام انسان بادشاہ، فقیر، عالم، اورعامی سب ایک ہی میدان میں کھڑے ہوں گے۔ نہ کسی کے پاس اختیار ہوگا، نہ کسی سفارش کا جواز۔ اللہ فرماتا ہے
يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
اس دن لوگ ربِّ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
(المطففین :6)
:دوم
یہ قیامت کے قیامِ عدل کو ظاہر کرتا ہے، جب ہر شخص اپنے اعمال کے لیے کھڑا ہوگا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
تحشرون حفاة عراة غرلا
تم ننگے پاؤں، ننگے جسم، بلا ختنہ کے اٹھائے جاؤ گے۔
(صحيح البخاري:كتاب الرقاق:حدیث: 6527)
:سوم
یہ تعبیر کامل عاجزی اور اللہ کی ربوبیت کے اقرار کو بیان کرتی ہے یعنی اس دن انسان کو احساس ہوگا کہ وہ دنیا میں جس اقتدار یا اختیار پر مغرور تھا، وہ سب ختم ہو گیا، اب صرف رب العالمین کا حکم اور فیصلہ باقی ہے۔
یہی دن ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
وہی جزا و سزا کے دن کا مالک ہے۔
(الفاتحہ :4)
پس یقوم الناس لرب العالمین کا مطلب ہے وہ دن جب سب انسان اپنے رب کے سامنے عدالتِ کبریٰ میں حاضر ہوں گے، کوئی چھپنے کی جگہ نہ ہوگی، اور ہر روح اپنے عمل کی گواہ بنے گی۔