اللہ تعالیٰ نے ہود علیہ السلام کو قومِ عاد کی طرف بھیجا، جو اپنی طاقت، اونچے محلات، اور جسمانی قوت پر فخر کرتے تھے۔ ہودؑ نے انہیں اللہ کے مقابلے میں تکبر سے باز رہنے کی نصیحت کی، فرمایا کہ
وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ يٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي الَّذِيْ فَطَرَنِيْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا اس نے کہا میری قوم کے لوگوں ! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود برحق نہیں تم تو صرف افتراء کرتے ہو۔
(سورۃ ہود: 50–52)
ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ وہ اپنی قوت، محلات، اور دنیاوی شان پر فخر نہ کریں بلکہ اسی رب کے آگے جھکیں جس نے انہیں پیدا کیا۔ لیکن قومِ عاد نے غرور میں آکر انکار کیا اور کہا کہ “ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ چنانچہ اللہ نے ان پر سخت اور طویل ہوا کا عذاب نازل کیا۔یہ واقعہ اہلِ ایمان کو یہ سکھاتا ہے کہ اصل عزت اور طاقت بندگی میں ہے، اور جو اللہ کے مقابلے میں تکبر کرے، وہ چاہے کتنی ہی قوت رکھتا ہو، آخرکار ذلیل ہو جاتا ہے۔