|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا نبی ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں دنیاوی معنوں میں؟

No media found.

یہ عقیدہ رکھنا کہ انبیاء کرام علیہھم السلام اپنی دنیاوی قبور میں برزخی طور پر زندہ ہیں یہ شرک کا چور دروازہ ہے، کیونکہ یہ دنیاوی زندگی کا ماننا ہی ہے اور ان کو اللہ کی خاص صفات میں شریک ٹھہرانا ہے۔ جبکہ برزخی حیات اللہ کی اعلی جنتوں میں ہیں۔

ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ۝ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ۝
پھر اس کے بعد تم سب مرنے والے ہو، پھر قیامت کے دن زندہ اٹھائے جاؤ گے۔ المؤمنون: 15-16
یہ واضح دلیل ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی صرف قیامت کو ہے، قبر میں دنیاوی زندگی ماننا قرآن کی مخالفت ہے۔

یہود و نصاریٰ نے اپنے انبیاء کو حد سے بڑھا کر زندہ اور نافع و ضار مانا، اللہ نے فرمایا
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ
انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔ التوبہ: 31
جب زندہ عالم و زاہد کو رب بنانا شرک ہے تو فوت شدہ نبی کو قبر میں زندہ ماننا  اورامت کے سلام و کلام کو  سننے اور انکے اعمال کو جاننے کا عقیدہ رکھنا بدرجہ اولیٰ شرک ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا
اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ
اے اللہ! میری قبر کو ایسا بت نہ بنانا جس کی عبادت کی جائے۔

موطأ الإمام مالك – كتاب الصلاة – جامع الصلاة:593
اگر قبر میں دنیاوی زندگی ماننا درست ہوتا تو نبی ﷺ اس کو شرک بتا کراور قبر کو بت بنانے سے نہ روکتے۔

نبی ﷺ کو قبر میں زندہ ماننا شرک ہے، کیونکہ یہ عقیدہ اللہ کے قانونِ موت وحیات کے خلاف ہے، اور نبی کو اللہ کی صفاتِ خاصہ  الحی  و القیوم  میں شریک کرنا ہے۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کو وفات ہوئی اور اب برزخی حیات اللہ کی اعلی جنتوں میں ہیں، جسم میں روح  قیامت کے دن لوٹائی جائے گی۔

Video Short Clips

Log In to Your Account