قرآن نے جن ہستیوں کے بارے میں لَا يَسْمَعُوْا فرمایا ہے، وہاں اصل مقصد توحید کی حفاظت اور غیر اللہ کی عاجزی و بےبسی کو واضح کرنا ہے۔ اس اسلوب میں اللہ تعالیٰ بندوں کو بتاتا ہے کہ جن کو وہ پکارتے ہیں، وہ حقیقت میں قدرت نہیں رکھتے؛ نہ سن سکتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں، نہ نفع و نقصان پر قادر ہیں۔
إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ
اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہیں سن سکتے۔
(فاطر 13، 14)
آیت میں سننے کی نفی بالکل حقیقی معنی میں کی گئی ہے،نہ یہ مجاز ی ہے، نہ علامت، بلکہ سمع کی اصل حقیقت ہی کی نفی کی گئی ہے۔ عصرِ حاضر کے فتنوں میں بعض لوگ ان نصوص کے ظاہر سے ہٹ کر مجازی تاویلات گھڑتے ہیں، مگر یہی تاویلات شرک و بدعت کی اصل جڑ بنتی ہیں۔ اگر لَا يَسْمَعُ کو مجاز اً کہا جائے تو پھر مردوں سے دعا، فریاد اور پکارنے کے تمام باطل دروازے کھل جاتے ہیں، حالانکہ قرآن کا، حدیث کا اور صحابہؓ کا راستہ یہی ہے کہ غیر اللہ کے بارے میں سمع کی نفی حقیقی طور پر کی جائے تاکہ بندہ توحید پر قائم رہے۔ کیونکہ اس کا مقصد غیر اللہ کی عاجزی ثابت کرنا اور دعا، فریاد، مدد اور پکار کو صرف اللہ کیلئے خالص کرنا ہے۔