جی ہاں، علمِ غیب صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ کوئی نبی، ولی یا فرشتہ وغیرہ غیب کا علم نہیں رکھتا، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ خود بتا دے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِى السَّمَـٰوَٰتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ
کہہ دو کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب کو نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔
(النمل :65)
یہ آیت واضح اعلان ہے کہ علمِ غیب اللہ کی صفتِ خاصہ ہے، جس میں کسی کو شریک نہیں کیا جا سکتا۔
نبی ﷺ نے فرمایا
وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِکُمْ
اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔
(صحیح بخاری:جلد سوم:خواب کی تعبیر کا بیان :حدیث نمبر 1945)
یعنی رسول ﷺ بھی غیب نہیں جانتے تھے، صرف وہی جانتے تھے جو اللہ نے وحی کے ذریعہ بتایا۔ پس جو اللہ کے سوا کسی اور کے لیے غیب دانی کا عقیدہ رکھے، وہ توحید کے منافی اور شرک کی طرف جاتا ہے۔