|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا عقیدہ خراب ہو تو اعمال قبول ہوتے ہیں؟

No media found.

اگرعقیدہ درست نہ ہو تو اعمال اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتے۔ قرآن نے صاف فرمایا

وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا
(الفرقان: 23)
اور ہم ان کے تمام اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے، پھر ہم انہیں اڑتی ہوئی دھول بنا دیں گے۔

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کا ایمان اور عقیدہ درست نہ تھا، چاہے اعمال کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں۔

اس سے واضح ہے کہ ایمان اور صحیح عقیدہ، اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہے۔ اگر بنیاد (عقیدہ) کمزور یا باطل ہو تو اعمال خواہ جتنے ہوں، اللہ کے ہاں ان کی کوئی قدر نہیں۔

Video Short Clips

Log In to Your Account