جی ہاں، عبادات میں بدعات شامل کرنا توحید کے منافی ہے، کیونکہ عبادت کا حق صرف اسی طرح ادا ہوتا ہے جس طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مقرر فرمایا ہے۔ عبادت میں اپنی طرف سے اضافہ، تبدیلی یا نئی صورت اختیار کرنا گویا اللہ کے دین میں شریک بنانا ہے، کہ انسان اپنی رائے کو وحی کے برابر سمجھنے لگتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ
کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں وہ طریقے مقرر کیے جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟
(سورۃ الشوریٰ: 21)
نبی ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں دین کو مکمل کر کے چھوڑا، اس لیے ہر نئی عبادت یا طریقہ جو آپ ﷺ کے زمانے میں نہ تھا، وہ مردود ہے۔ توحید یہی ہے کہ بندہ صرف اسی طرح عبادت کرے جیسے اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے سکھایا، اور اسی میں دین کی سلامتی اور قبولیت ہے۔