صوفیاء کی اصطلاحات جیسے فنا فی اللہ، بقا باللہ، وحدت الوجود، وحدت الشہود، حلول وغیرہ قرآن و سنت کے الفاظ نہیں بلکہ بعد کے زمانے میں وضع کی گئی تعبیرات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصطلاحات قرآن کی اصل تعلیمات سے میل کھاتی ہیں یا ان میں غلو اور بدعت کا عنصر شامل ہے؟
اللہ تعالی کا واضح فرمان ہے کہ
اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
تم اپنے رب کی طرف سے جو نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے علاوہ کسی اور کے پیچھے نہ چلو۔
الأعراف: 3
یہ آیت ہمیں سیدھی ہدایت دیتی ہے کہ صرف قرآن و سنت کے الفاظ اور تعلیمات پر اکتفا کیا جائے۔ نئی اصطلاحات خواہ بظاہر اچھی لگیں مگر ان کے ذریعے ایسے معانی پیدا ہوں جو نصوص سے باہر ہوں تو وہ مردود و بدعت شمار ہوں گی۔
جب صوفیاء نے فنا فی اللہ یا وحدت الوجود جیسے الفاظ استعمال کیے اور عوام الناس میں یہ بتایا کہ بندہ اللہ میں مل جاتا ہے یا اللہ کے برابر ہو جاتا ہے۔ یہ نہ صرف بدعت ہے بلکہ شرک کی راہ ہے۔ دین کے اصول میں غیر شرعی اصطلاحات ہمیشہ خطرہ رکھتی ہیں کہ وہ امت کو صحیح فہم سے ہٹا دیں۔
یہی غلطی نصاریٰ نے کی کہ انہوں نے ابن اللہ جیسی اصطلاح ایجاد کی، جو قرآن کی تعلیم سے میل نہیں کھاتی تھی اور بالآخر انہیں شرک میں مبتلا کر دیا۔ اسی طرح یہودیوں نے اپنے رُہبان اور احبار کو رب کا درجہ دے دیا۔ صوفیاء کی مبالغہ آمیز اصطلاحات بھی اسی طرح امت کو گمراہی میں ڈالتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ
تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے بعد خلفائے راشدین کی سنت۔
سنن أبي داود – كتاب السنة – باب في لزوم السنة:4607
اس میں واضح حکم ہے کہ دین کی بنیاد صرف نبی ﷺ اور صحابہؓ کے طریقے پر ہے، نئی اصطلاحات یا خودساختہ تعبیرات پر نہیں۔ صوفیاء کی اصطلاحات قرآن اور سنت کے اصل الفاظ سے میل نہیں کھاتیں اور کھلا شرک ہے۔ بندے کے لیے اصل نجات یہی ہے کہ وہ دین کو قرآن و سنت کی تعبیرات میں سمجھے اور صوفیانہ اصطلاحات پر انحصار نہ کرے۔