|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا سماعِ موتی کی دلیل میں استعمال ہونے والی روایات سنداً صحیح ہیں یا ضعیف؟

No media found.

سماعِ موتیٰ کے بارے میں یہ بات واضح ہے کہ مردوں کے سننے پر کوئی ایک بھی صحیح، صریح، غیر مؤوَّل روایت موجود نہیں۔ قرآن نے جو اصل قاعدہ بیان کیا ہے، وہ قطعی ہے اور ہر روایت اسی کے تابع ہوتی ہے۔

إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى
اے پیغمبر آپ مردوں کو نہی سنا سکتے۔
(النمل 80)
یہ کلام اللہ مردوں کے متعلق سماعت کی حقیقی نفی بیان کرتا ہے، اس کے مقابلے میں کوئی صحیح روایت سماع ثابت نہیں کرتی۔

نبی ﷺ کی جو روایت قلیب بدر کے بارے میں ہے، وہ صحیح ہے، لیکن احادیث میں صاف لکھا کہ یہ سننا مراد جاننا ہے اور معجزہ تھا، نہ کہ مردوں کا عمومی سماع۔ خود امّ المؤمنین عائشہؓ نے سماع الموتی پر اس سے استدلال کرنے والوں کو قرآن کی درست رہنمائی فراہم کی ہے کہ إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى (النمل 80)

آج کے دور میں بعض گروہ کچھ کلام علی المیت والی روایات سے عام سماع کا نظریہ بنا کر قبر والوں سے دعا، فریاد اور استعانت کا جواز نکالتے ہیں، حالانکہ یہ طریقہ نہ صحابہؓ کا ہے نہ ائمہ محدثین کا۔ صحابہؓ میں سے کسی ایک نے بھی ان روایات کو عام سماع کی دلیل نہیں بنایا۔ سماعِ موتیٰ مطلق اور عام معنی میں کسی صحیح روایت سے ثابت ہی نہیں۔

Video Short Clips

Log In to Your Account