|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا روح مرنے کے بعد اپنے خاندان والوں سے ملاقات کرتی ہے؟

No media found.

اس مسئلے کی اصل بنیاد عقیدہ آخرت کا وہ اصول ہے کہ موت دنیا سے مکمل جدائی ہے اور اس کے بعد انسان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتا ہے جسے قرآن نے برزخ کہا ہے۔ ایک ایسی آڑ جو دنیا کے ساتھ ہر طرح کی آمد و رفت کو بند کر دیتی ہے۔ جب یہ اصول واضح ہو جائے تو پھر یہ سوال بھی اپنی جہت خود ہی متعین کر لیتا ہے کہ ملاقات کی نوعیت دنیاوی نہیں ہو سکتی، نہ دنیا کی واپسی، نہ گھروں میں آنا، نہ خاندان کے ساتھ دنیا جیسی گفتگو۔

قرآن اسی حقیقت کو ایک فیصلہ کن جملے میں بیان کرتا ہے
وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ
کہ ان کے پیچھے ایک آڑ ہے، قیامت کے دن تک۔
(المؤمنون 100)
یہ آڑ دنیا سے رابطے کا ہر دروازہ بند کر دیتی ہے۔ اگر روح دنیا کی طرف آ سکتی، یا کسی صورت گھروں میں جا کر ملاقات کر سکتی، تو اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُون کی قید بے معنی ہو جاتی۔

آج پھیلے ہوئےغلط تصورات کہ مرنے والے کی روح گھر والوں کے میں آتی ہے، ان کے حالات دیکھتی ہے، ان کے پاس بیٹھتی ہے یہ سب اسی غلط بنیاد سے پیدا ہوئے کہ روح دنیا کے ساتھ رابطہ رکھتی ہے، جبکہ قرآن نے درست بنیاد یہ رکھی ہے کہ روح قیامت تک برزخی پردے کے اندر ہے، نہ دنیا میں آتی ہے، نہ دنیا کا مشاہدہ کرتی ہے۔ روح مرنے کے بعد اپنے خاندان والوں سے دنیاوی ملاقات نہیں کرتی، نہ گھروں میں آتی ہے، نہ دنیاوی طور پر دیکھتی یا بولتی ہے۔ مرنے والوں کی روحیں برزخ میں آپس میں مل سکتی ہیں۔ جو دنیا سے مکمل طور پر جدا، ایک مختلف عالم کی ملاقات ہے، جس کا دنیا کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔

Video Short Clips

Log In to Your Account