جی ہاں، فرقہ واریت کے موضوع کو مفصل انداز میں دیکھیں تو یہ دین کے سب سے بڑے اجتماعی نقصان میں سے ہے، کیونکہ اس نے اسلام کے اصل اور خالص چہرے کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپا دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سختی سے تفرقہ سے منع کیا ہے
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ
بے شک جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے، آپ ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔
(الأنعام، 159)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ فرقہ واریت اللہ کے نزدیک اتنی ناپسندیدہ ہے کہ رسول ﷺ کو بھی ایسے لوگوں سے بری قرار دیا گیا۔ اس کے برعکس قرآن نے حکم دیا
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
اور سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن و سنت) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔
(آل عمران، 103)
نبی ﷺ نے امت کے بارے میں فرمایا
افترقت اليهود على إحدى وسبعين فرقة۔۔۔ وستفترق أمتي على ثلاث وسبعين فرقة كلها في النار إلا واحدة
یہود 71 فرقوں میں بٹ گئے۔۔۔ میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی، سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے۔ صحابہؓ نے پوچھا وہ کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو اس طریقے پر ہوں گے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔
(سنن ترمذی، حدیث 2641)
دین حق سے انحراف کی پاداش یں فرقہ واریت ناگزیر طور پر پیدا ہوگی، لیکن نجات صرف اس گروہ کو ملے گی جو قرآن و سنت کو صحابہؓ کے فہم کے ساتھ تھامے گا۔
اسلام کی وحدت مجروح ہوئی، امت ایک جسم کی طرح تھی، لیکن فرقہ واریت نے اسے پارہ پارہ کر دیا۔ دین کا اصل پیغام دھندلا گیا، لوگ اصل قرآن و سنت کی بجائے گروہی فتووں اور مناظروں میں الجھ گئے۔ غیروں کے سامنے دین کا چہرہ مسخ ہوا۔ اسلام کی عظمت کی بجائے دنیا کو مسلمانوں کی باہمی لڑائیاں نظر آنے لگیں۔ نفرت اور تعصب نے بھائی چارے کو ختم کیا، جبکہ قرآن نے مومنوں کو بھائی بھائی کہا تھا (الحجرات: 10)۔ اسلامی قوت زوال کا شکار ہوئی ،امت کی تقسیم نے دشمنوں کو طاقتور کر دیا۔
فرقہ واریت دراصل قرآن و سنت سے غفلت اور غیر صحابہؓ کے فہم کو معیار بنانے کا نتیجہ ہے۔ اسلام ایک سادہ اور واضح دین ہے جس میں توحید، نبوت اور آخرت کی سیدھی راہ ہے۔ لیکن جب لوگوں نے اپنے اپنے گروہوں کو دین کا معیار بنا لیا تو اصل دین پس منظر میں چلا گیا۔
حل صرف ایک ہے کہ قرآن کو اصل رہنمائی کا ذریعہ بنایا جائے، سنت کو عملی معیار سمجھا جائے، صحابہؓ کے فہم کو قبول کیا جائے۔
جب تک امت اس معیار پر واپس نہیں آئے گی، فرقہ واریت کا پردہ اصل اسلام پر چھایا رہے گا۔ اور جب واپسی ہوگی تو اسلام اپنی اصل شکل میں دوبارہ دنیا کو نظر آئے گا۔