قرآنِ مجید نے مردوں کی سماعت کے بارے میں جو اصول دیا ہے وہ قطعی اور فیصلہ کن ہے کہ
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ
آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔(النمل 80)
یہ آیت ہر طرح کے عام اور مطلق سماع کو نفی کرتی ہے اسی لیے قرآن کی نص کی بنیاد پر عقیدہ یہ ہے کہ مردے کسی میں حال میں،کسی جگہ یا کسی آواز کو بھی نہیں سنتے۔
صحیح بخاری میں روایت يَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ وارد ہوئی ہے، جس کے بعض لوگوں نے غلط فہمی میں اسے سماعِ موتی کی دلیل بنا لیا۔ لیکن یہاں اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ مردوں کی سماعت کی بات نہیں بلکہ فرشتوں کی حرکت کی اطلاع ہے۔ جب انسان کی روح کو برزخ میں رکھا جاتا ہے، فرشتے واپس پلٹتے ہیں، تو روح کو صرف فرشتوں کے جوتوں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ انسانی قدموں یا آواز کا مردہ ادراک نہیں کرتا۔ یہ روایت دراصل برزخ میں روح کی کیفیت کی خبر دیتی ہے، نہ کہ مردے کی سماعت کو عام اصول کے طور پر ثابت کرتی ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مردے جوتوں کی چاپ یا سلام وغیرہ سن کر انسانی حرکت کا ادراک کر لیتے ہیں، وہ قرآن کے نص کے خلاف ہیں۔ حتی کہ اہلِ حدیث میں بھی جو لوگ قبر میں سلام یا درود کے پہنچنے کو استثناء کے طور پر مانتے ہیں جبکہ اللہ کے قانون میں اسکی گنجائش نہیں ہے۔
لہٰذا اصل عقیدہ یہ ہے کہ مردے نہیں سنتےاور عدمِ سماعِ موتى کا عقیدہ قطعی اور قرآن کے مطابق درست ہے، اور جو بھی مردوں کے سماع کا دعویٰ کرے، وہ نصِ قرآن کے خلاف جائے گا۔