یہ جملہ توحید کے منافی ہے اور ایمان کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ اس میں دل کی نسبت اور محبت کا مرکز اللہ کے سوا کسی اور کو بنا دیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ
اورکچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو غیر اللہ کو اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے محبت ہوتی ہے اور ایمان والوں کو اللہ سے اس سے کہیں زیادہ محبت ہے۔
(سورۃ البقرۃ :165)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ محبت، عقیدت اور میرا سب کچھ صرف اللہ کے لیے ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی، امید، یا فریاد کا مرکز کسی بزرگ، پیر یا نبی کو بنا لے تو وہ شرک کی سرحد پر قدم رکھ دیتا ہے۔ دل کی نسبت، عقیدت، اور میرا سب کچھ کہنا صرف اللہ کے لیے جائز ہے، کیونکہ بندہ اسی کو سب کچھ سمجھے جو خالق، رازق اور مالک ہے۔