جی ہاں، توحید کا لازمی تقاضا یہی ہے کہ حکم، قانون اور فیصلے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مانا جائے۔ جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کے بنائے ہوئے قانون یا حکم کو حاکمِ اعلیٰ سمجھ کر قبول کرے، وہ دراصل توحیدِ حاکمیت کا منکر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُۚ
حکم (فیصلہ کرنا) صرف اللہ کا حق ہے، اس نے یہی حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔
(یوسف :40)
یعنی جس طرح دیگر ارکانِ عبادت صرف اللہ کے لیے ہے، اسی طرح قانون سازی، اطاعت اور حاکمیت بھی صرف اسی کا حق ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
لا طاعة لمخلوق في معصية الله عز وجل
اللہ کی نافرمانی میں کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں ہے
(مسند احمد:مسند الخلفاء الراشدين:حدیث: 1095)
لہٰذا توحید کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کے حکم کو آخری فیصلہ مانے۔ چاہے وہ عبادت، سیاست، معیشت یا معاشرت ہو۔ اس کے سوا کسی کو حاکمِ مطلق ماننا شرک فی الحاکمیت ہے۔