|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا بدر کے مقتول کفار سے خطاب والی حدیث عام سماعِ موتی پر دلیل بنتی ہے یا صرف خصوصی معجزہ؟

No media found.

بدر کے مقتول کفار سے نبی ﷺ کا خطاب کوئی عام سنت، عام قانون یا عام سماعت نہیں تھی بلکہ ایک خصوصی معجزہ تھا جسے خود صحابہؓ نے عام سماعت پر دلیل نہیں بنایا۔ قرآن نے پہلے ہی فیصلہ کن حکم دے دیا تھا کہ إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ (النمل 80) آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ جب اللہ نے عمومی سنتِ الٰہیہ بیان کر دی، تو اس کے خلاف جو واقعہ آتا ہے وہ ہمیشہ معجزہ یا استثناء کے طور پر سمجھا جاتا ہے، اصول نہیں بن جاتا۔

نبی ﷺ نے بدر کے مقتولین سے خطاب فرمایا تو صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ ان لاشوں سے کیوں خطاب فرما رہے ہیں؟ جن میں کوئی جان نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے ہو۔ قتادہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کر دیا تھا (اس وقت) تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی بات سنا دیں ان کی توبیخ ‘ ذلت ‘ نامرادی اور حسرت و ندامت کے لیے۔ (صحيح بخاري:كتاب المغازی:حدیث: 3976) اس کا معنی یہی ہے کہ یہ عام سماعت نہیں بلکہ خاص موقع ہے جس میں اللہ نے مقتولین کو حقیقتِ فیصلہ سنوا دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کو کبھی بھی عقیدہ نہیں بنایا گیا۔

امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی واقعے کی تاویل کرتے ہوئے قطعی فیصلہ فرمایا کہ سننا مراد جاننا ہے، یعنی وہ اپنے انجام کو جان گئے ہیں۔ کیونکہ قرآن صاف کہتا ہے کہ مردے نہیں سنتے۔ انہوں نے سورۃ النمل کی اسی آیت سے واضح اصول قرار دیا اور صحیح بخاری (3980) میں ان کا یہی فیصلہ درج ہے اور اسے حجت مانا گیا۔

صحابہؓ نے بھی اس خطاب کو کبھی مردوں کے عمومی سننے پر دلیل نہیں بنایا۔ نہ کسی قبر پر جا کر خطاب کیا۔ اگر یہ عام سنت ہوتی تو سب سے پہلے صحابہؓ اسے عقیدے اور عمل میں لیتے، مگر ایسا نہیں ہوا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدر کا واقعہ خصوصی معجزہ تھا، نہ کہ سماعِ موتی کی عام دلیل۔

Video Short Clips

Log In to Your Account