جی، میں آپ کو اہل تشیع کی اپنی کتب سے چند ایسے حوالے دیتا ہوں جہاں صحابہ کرامؓ پر سبّ و شتم اور تنقیص ملتی ہے، تاکہ یہ واضح ہو کہ یہ عمل محض الزام نہیں بلکہ ان کے اصل ماخذات میں موجود ہے
ابوبکرؓ اور عمرؓ کے بارے میں سبّ کرتے ہوئے الکافی للکلینی (شیعہ کی معتبر ترین کتب ) میں ہے
عن أبي جعفر قال إن الناس ارتدوا بعد النبي ﷺ إلا ثلاثة
امام باقر سے منسوب ہے کہ نبی ﷺ کے بعد سب لوگ مرتد ہو گئے سوائے تین کے۔
(الکافی، جلد 8، صفحہ نمبر 245)
(یعنی ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ سمیت باقی سب کو ارتداد میں شامل کیا گیا۔)
عمرؓ پر سبّ دیکھیں تفسیر القمی (شیعہ تفسیر):
(إن الذين آمنوا ثم كفروا…) في الثاني (یعنی عمر).
بےشک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کفر کیا… دوسرے (یعنی عمرؓ) کے بارے میں نازل ہوئی۔
(تفسیر القمی، جلد 1، صفحہ نمبر 142)
عثمانؓ پر طعن دیکھیں بحار الأنوار (علامہ مجلسی)
إن الثالث (عثمان) أحدث أحداثاً عظيمة، فلعنه الله ولعن معه من رضي بذلك
تیسرے (عثمانؓ) نے بڑے بڑے بُرے کام کیے، پس اللہ کی لعنت ہو اس پر اور ان سب پر جو اس پر راضی تھے۔
(بحار الأنوار، جلد 30، صفحہ نمبر 260)
شیعہ کے معتبر مصادر میں صراحت کے ساتھ ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ کو مرتد، ظالم اور لعنت کے لائق کہا گیا۔ ان کے ماننے والوں پر بھی لعنت بھیجی گئی۔ امتِ مسلمہ کو مجموعی طور پر برا کہا گیا۔
یہ دلائل ثابت کرتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کو سبّ و شتم کرنا محض فرقہ وارانہ تعصب نہیں بلکہ رافضی مکتب کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔