اختلاف کو ختم کرنا ہی مقصود ہونا چاہیے، کیونکہ دینِ اسلام میں اختلاف پسندیدہ چیز نہیں۔ قرآن نے بارہا امت کو اختلاف و تفرقے سے روکا ہے، کیونکہ اختلاف دراصل وحدتِ حق سے انحراف اور شیطان کا حربہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا، لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ
بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے، (اے نبی ﷺ!) آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔
(الأنعام: 159)
نبی کریم ﷺ نے امت کو اسی فتنہ سے ڈرایا اور فرمایا کہ
من فارق الجماعة شبرا فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه
جو جماعت (یعنی امت) سے بالشت بھر بھی الگ ہوا، اس نے اپنے گلے سے اسلام کا پٹا اتار دیا۔
(سنن ابي داود:كتاب السنة:حدیث: 4758)
اسلام کا مطالبہ یہ نہیں کہ اختلاف کو برداشت کر کے نظامِ عدل سے سنبھالا جائے، بلکہ یہ ہے کہ حق ایک مانا جائے اور باقی آراء کو باطل سمجھ کر چھوڑ دیا جائے۔ قرآن و سنت میں جو حکم موجود ہے، اس کے مقابلے میں کسی کی رائے، تاویل یا فقہی جمود کو جگہ نہیں۔ لہٰذا امت کی اصلاح اسی میں ہے کہ وہ اختلافات کو جڑ سے ختم کرے یعنی سب کے لیے ایک ہی معیار باقی رہے اللہ کی کتاب، رسول ﷺ کی سنت، اور صحابہؓ کا فہم۔ یہی اتحادِ حقیقی اور نجات کا واحد راستہ ہے۔