قومِ مدین کو ان کے گناہوں، خاص طور پر ناپ تول میں کمی اور بددیانتی کے سبب زلزلے اور آسمانی طوفان کے ذریعے عذاب کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِہِمْ جٰثِمِيْنَ۹۴ۙ
اور جب آیا ہمارا فیصلہ عذاب تو بچا لیا ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اس کے ساتھ اپنی رحمت خاص سے اور آلیا ان لوگوں کو جو ظالم تھے ایک سخت دھماکے نے پھر وہ پڑے رہ گئے اپنے گھروں میں بےحس و حرکت۔ ھود: 95
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَشِدَّةِ الْمَؤُونَةِ وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ
اور جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگتے ہیں تو انہیں قحط سالی، معاشی تنگی اور حکمرانوں کے ظلم و ستم میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔
سنن ابن ماجه – أبواب الفتن – باب العقوبات: 4019
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قومِ مدین کا جرم صرف ایک تجارتی بددیانتی نہیں تھا بلکہ اللہ کے حکم کی کھلی نافرمانی تھی۔ آج بھی جب معاشرے میں کاروباری دھوکہ، ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی عام ہو تو وہی عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔