قرآن ہمیں واضح بتاتا ہے کہ قومِ لوطؑ کا سب سے بڑا اخلاقی فساد ہم جنس پرستی تھا، جو فطرت کے خلاف اور انتہائی گھناؤنا جرم ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ ڏوَتَاْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ
کیا تم (خواہش نفسانی کے لیے) مَردوں کے پاس آتے ہو اور تم ڈاکے ڈالتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بےحیائی کے کام کرتے ہو تو ان کی قوم کا جواب یہی تھا کہ انھوں نے کہا کہ تم لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچوں میں سے ہو۔ (العنكبوت: 29)
یہ فساد ان کی ہلاکت کا سبب بنا، جب انہوں نے اللہ کے نبی لوطؑ کی نصیحت رد کر دی اور الٹا تمسخر کیا۔ آخرکار اللہ نے ان پر آسمان سے پتھروں کی بارش کی اور ان کی بستیاں الٹ دیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ
مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ
جس شخص کو تم قومِ لوط کے فعل میں ملوث پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کرو۔
سنن ابی داؤد: كتاب الحدود: باب فيمن عمل عمل قوم لوط : 4462
یہ عمل نہ صرف فردی اخلاقی بگاڑ ہے بلکہ اجتماعی عذاب کا سبب ہے۔ موجودہ دور میں بھی ہم جنس پرستی کو آزادی اور حقوق کے نام پر فروغ دینا اسی قومِ لوطؑ کے راستے پر چلنا ہے۔ ایمان والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان خباثتوں سے بچیں، اپنی نسلوں کو بچائیں، اور توحید و فطرت کے مطابق پاکیزہ معاشرہ قائم کریں۔