قومِ ثمود کی نشانی اونٹنی کوچند اشخاص نے مارا تھا، جو اپنی قوم کے سب سے سرکش اور بدبخت لوگوں میں سے تھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
فَعَقَرُوا۟ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوْا۟ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا۟ يَـٰصَـٰلِحُ ٱئْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
پھر انھوں نے اُونٹنی کی ٹانگوں کو کاٹ ڈالا اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور انھوں نے کہا اے صالح ! ہم پر (وہ عذاب) لے آؤ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم رسولوں میں سے ہو۔
(الأعراف: 77)
پھر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی، اور کہنے لگے: اے صالح! وہ عذاب لے آؤ جس کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو اگر تم رسول ہو۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ جب اللہ کی نشانیوں سے کھیل کیا جائے اور نبی کی اطاعت سے انکار کیا جائے تو ہلاکت یقینی ہوتی ہے۔ اللہ نے اسی جرم کے نتیجے میں قومِ ثمود کو ایک ہولناک چیخ سے ہلاک کر دیا۔