جب ابراہیمؑ نے اپنی قوم کے بتوں کو توڑ کر شرک کی باطل حقیقت کو ظاہر کیا، تو ان کی قوم سچائی قبول کرنے کے بجائے غصے میں آ گئی۔ انہوں نے ابراہیمؑ پر الزام لگایا کہ تم نے ہمارے معبودوں کی بے حرمتی کی ہے، لہٰذا تمہیں سخت سزا دی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ
انہوں نے کہا: اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو۔
(سورۃ الأنبیاء: 68)
قوم نے ابراہیمؑ کے لیے آگ کا بڑا الاؤ تیار کیا تاکہ انہیں جلایا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے انہیں محفوظ رکھا۔
قُلْنَا يَـٰنَارُ كُونِى بَرْدًۭا وَسَلَـٰمًا عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ
ہم نے کہا: اے آگ! تُو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔
(الأنبیاء: 69)
یہ واقعہ توحید کی ایک عظیم نشانی ہے کہ جب بندہ خالص ایمان کے ساتھ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو کائنات کی قوتیں بھی اس کے خلاف کارگر نہیں ہوتیں۔ نبی ﷺ نے اسی ایمانِ ابراہیمی کو امت کے لیے مثال بنایا کہ ایمان صرف عقیدہ نہیں، بلکہ اللہ پر کامل اعتماد کا نام ہے۔