قرآن نے پچھلی قوموں کے انجام کو اہلِ ایمان کے لیے تنبیہ اور نصیحت کے طور پر بیان کیا ہے تاکہ وہ ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کے احکام سے روگردانی نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ
پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کے سبب پکڑا؛ تو ان میں کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھروں کی آندھی بھیجی، اور کوئی وہ جسے زور دار چنگھاڑ نے پکڑا، اور کوئی وہ جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا، اور کوئی وہ جسے ہم نے غرق کر دیا، اور اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔
(العنکبوت: 40)
اس سے اہلِ ایمان کو نصیحت ہے کہ اللہ کی شریعت سے انحراف، شرک، کفر اور ظلم کا انجام ہمیشہ تباہی ہے. پس قرآن کے یہ واقعات اہلِ ایمان کے لیے چراغِ راہ ہیں کہ وہ فرقوں، شخصیت پرستی، طاغوت پرستی اور دنیا پر فخر کرنے سے بچیں اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر قائم رہیں۔