|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قبروں پر چراغاں کرنا کیسا ہے؟

قبروں پر چراغاں کرنا نہ صرف سنتِ نبوی ﷺ کے خلاف ہے، بلکہ یہ شرک کا چور دروازہ ہے، کیونکہ اس سے قبروں کی تعظیم و تقدیس کا وہ راستہ کھلتا ہے جو بعد میں شرک تک پہنچا دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
وإيّاكم ومحدثاتِ الأمورِ، فإن كلَّ محدثةٍ بدعةٌ، وكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ
نئے پیدا کردہ کاموں سے بچو، کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
(سنن ابو داود، حدیث 4607، صحیح)

جب عبادت کا ماحول بنایا جائے، جیسے چراغاں، خوشبو، روشنی، تو وہاں دل جھکنے لگتا ہے اور اگر وہ جگہ قبر ہو تو شرک کا آغاز وہیں سے ہو جاتا ہے۔ صحابہؓ، تابعینؒ نے قبروں پر نہ چراغ جلائے، نہ وہاں نورانی محفلیں منعقد کیں۔

دین میں نئے کاموں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ

وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ

اور سب سے بُرے کام وہ ہیں جو دین میں نئے نکالے جائیں، اور ہر نیا نکالا ہوا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں ہے۔(سنن النسائي – كتاب صلاة العيدين – باب كيف الخطبة:1577)

توحید کا تقاضا یہ ہے کہ قبر کو قبر ہی رہنے دیا جائے، عبادت کا مقام نہ بنایا جائے۔

قبروں پر چراغاں کرنا شرک کا راستہ ہموار کرنا ہے، جو کہ سنت کے خلاف اور دین میں بدعت ہے۔ اس لیے اس سے بچنا واجب ہے۔ توحید، قبروں کی تعظیم نہیں بلکہ صرف اللہ کی عبادت کا نام ہے۔

مزید سوال کریں / اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Are you human? Please solve:Captcha


Log In to Your Account