|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اونٹنی کے بارے میں کیا ہدایت دی تھی؟

No media found.

صالح علیہ السلام نے اپنی قومِ ثمود کو واضح طور پر ہدایت دی تھی کہ یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے نشانی ہے، اسے آزاد چھوڑ دو، اسے نقصان نہ پہنچاؤ، اور اس کے پینے کے دن کا احترام کرو۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا

وَيٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَــةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيْبٌ
اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اُونٹنی ہے (جو) تمھارے لیے ایک نشانی (ہے) لہٰذا تم اسے چھوڑ دو (کہ) وہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور تم اسے بُرائی (کے ارادہ) سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمھیں جلد ہی عذاب آپکڑے گا۔
(ہود: 64)

اور ایک اور مقام پر فرمایا

وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاۗءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ۝
اور ان کو بتا دیں کہ ان کے (اور اونٹنی کے) درمیان پانی تقسیم کر دیا گیا ہے ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔
(القمر: 28)

یعنی اونٹنی کے لیے ایک دن مخصوص تھا جس دن وہ پانی پیتی تھی، اور اگلے دن قوم اپنے جانوروں کو پانی پلاتی تھی۔ یہ واقعہ اس بات کی تنبیہ ہے کہ اللہ کی نشانیوں اور رسول کی ہدایت کا انکار دراصل اللہ سے جنگ ہے، جس کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account