|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

سماعِ موتی کے قائلین کے نزدیک کیا مردہ ہر آواز سنتا ہے یا صرف وہ جو اللہ اسے سنائے؟

No media found.

سماعِ موتی کے قائلین میں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ مردہ ہر طرح کی آواز سنتا ہے، یعنی انسانوں کی بات، قدموں کی چاپ، سلام، دعا وغیرہ سب۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مردہ صرف وہ آواز سنتا ہے جو اللہ اسے سننے کی اجازت دے۔ لیکن قرآنِ مجید نے صاف اور قطعی حکم دے دیا ہے۔
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ
بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔
(النمل 80)

یہ نص ہر طرح کی سماعت کو نفی کرتی ہے، چاہے وہ انسانی ہو، فرشتوں کی ہو یا کسی اور مخلوق کی۔ امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی آیت سے یہ اصول اخذ کیا کہ مردے نہ سنتے ہیں، نہ دعا سنتے ہیں، نہ سلام سنتے ہیں، نہ کسی خاص مقام یا موقع کی آواز۔ اس لیے جو لوگ کہتے ہیں کہ مردہ سنتا ہے وہ قرآن کی نص کے خلاف ہیں، کیونکہ نص قطعی اور عام ہے، اور کسی استثناء کی اجازت نہیں دیتا۔

صحابہؓ کا راستہ بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ مردے کسی بھی آواز کے سننے کے اہل نہیں ہیں۔ لہٰذا صحیح عقیدہ یہی ہے کہ مردہ نہیں سنتا، اور نہ ہی کوئی محدود سماعت رکھتا ہے۔ یہی قرآن، صحابہؓ اور شریعت کا متفقہ فہم ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account