حج اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے اور ہر بالغ مسلمان پر جو جسمانی اور مالی طور پر استطاعت رکھتا ہو، ایک بار زندگی میں فرض ہے۔ فرمایا
اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۭ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ڼوَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى ۡ وَاتَّقُوْنِ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ
حج کے چند مہینے متعیّن ہیں تو جو اِن میں (نیّت کرکے اپنے اُوپر) حج کو لازم کرلے تو حج کے دوران نہ کوئی فحش بات کرے نہ ہی کوئی نافرمانی اور نہ ہی جھگڑا اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو اللہ اُسے جانتا ہے اور زادِ راہ لے لیا کرو بےشک سب سے بہتر زادِراہ تو پرہیزگاری ہے اور اے عقل مندو! میری نافرمانی سے بچو۔
(البقرہ-157)
یہاں حج کے بنیادی احکامات کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے
احرام کی حالت اختیار کرنا
احرام کا لباس مردوں کے لیے دو سفید غیر سوتی کپڑے اور عورتوں کے لیے سادہ لباس جو بدن کو ڈھانپے ہوئے ہو۔
نیت اور تکبیر احرام میں داخل ہونے سے پہلے نیت کی جائے اور تین تکبیر پڑھے جائیں
لَبَّيكَ اللّهُمَّ لَبَّيْكَ۔۔۔
ممنوعات احرام کی حالت میں کچھ اعمال جیسے ناخن کٹنا، بال کاٹنا، شادی کرنا، جھوٹ بولنا، اور عورتوں سے مس ممنوع ہے۔
طواف کرنا
کعبہ کے سات چکر لگانا۔ پہلے طواف میں مخصوص مقامات کا ذکر اور دعائیں کی جاتی ہیں۔
طوافِ افاضہ حج کا ایک اہم رکن جو عرفات کی مناسبت سے کیا جاتا ہے۔
طوافِ وداع حج کے اختتام پر آخری طواف جو الوداع کا اعلان ہوتا ہے۔
سعی کرنا
سعیِ صفا و مروہ صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگانا۔ یہ ہاجرہ علیہ السلام کی تلاشِ پانی کی یاد دہانی کے لیے ہے۔
مقامات صفا اور مروہ کے درمیان موجود سفلی اور علوٰی مقامات پر دعائیں اور ذکر کی جاتی ہیں۔
قیامِ عرفات (ستونِ حج)
عرفات میں قیام حج کا سب سے اہم رکن ہے۔ 9 ذوالحجہ کے دن قیام کرنا۔ یہاں انسان اپنی عاجزی اور توکل کا اظہار کرتا ہے۔
دعائیں عرفات میں زیادہ تر دعا اور ذکر اللہ کا ہوتا ہے۔
مزدلفہ میں رہنا
عرفات کے بعد مزدلفہ میں جانا اور وہاں رات گزارنا۔ یہ جگہ زمین پر صلوۃ اور عبادت کا مرکز ہے۔
رمی الجمرات (جمرات میں پتھر پھینکنا)
تین جمرات منیٰ میں تین جمرات میں پتھر پھینکنا۔ یہ عمل شیطان کو ترک کرنے اور برائیوں سے بچنے کی علامت ہے۔
مکمل رمی ہر جمرہ پر سات پتھر پھینکنا۔
قربانی کرنا
حلال جانور کی قربانی مکہ میں کی جاتی ہے جو کہ ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے۔
تقسیم قربانی کا گوشت
محتاجوں، یتیموں، مسکینوں اور سفر کرنے والوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
صفائی و کٹائی کرنا
بال کٹانا یا منڈوانا حج کے بعد احرام سے نکلنے کے لیے ضروری ہے۔
یہ عمل جسمانی پاکیزگی اور روحانی تازگی کی علامت ہے۔
طوافِ افاضہ اور طوافِ وداع
طوافِ افاضہ قربانی کے بعد کیا جاتا ہے جو حج کے مکمل ہونے کی علامت ہے۔
طوافِ وداع حج مکمل ہونے پر الوداع کا طواف کرنا تاکہ انسان اللہ کی رضا میں رہ کر دنیا کی طرف لوٹ سکے۔
حج کی اہمیت اور مقاصد
تقویٰ کی تکمیل: حج کے ذریعے انسان تقویٰ کو مضبوط کرتا ہے اور اللہ کے قریب ہوتا ہے۔
اخلاص و توکل: حج کے دوران مکمل اخلاص اور توکل کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
معاشرتی یکجہتی: دنیا بھر کے مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں جس سے بھائی چارہ اور امت کی وحدت کا احساس ہوتا ہے۔
ذاتی اصلاح: حج انسان کو اپنی خامیوں سے پاک ہو کر نیا آغاز کرنے کا موقع دیتا ہے۔