اللہ نے فرعون کو اس وقت غرق کیا جب وہ اپنی پوری طاقت و لشکر کے ساتھ موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے سمندر میں داخل ہوا اور عین موت کے وقت ایمان لانے کا دعویٰ کیا، مگر اس کا ایمان قبول نہ کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدْرَكَهُ ٱلۡغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱلَّذِيٓ ءَامَنَتۡ بِهِۦ بَنُوٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ اٰۗلْئٰنَ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
یہاں تک کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو اس نے کہا میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں مگر وہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں فرمانبردار ہوں۔ (اللہ نے فرمایا) اب ایمان لاتا ہے جبکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور فساد مچانے والوں میں تھا؟ (یونس: 90-91)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ موت کے وقت کا ایمان نفع نہیں دیتا اور اللہ کے سامنے دیر سے جھکنا بیکار ہے۔ نجات کا راستہ یہی ہے کہ انسان زندگی میں ہی توحید اور اطاعت پر قائم رہے، نہ کہ آخری لمحے کے انتظار میں رہے اور جب غیب مشہود ہو جائے تب کوئی توبہ نہیں۔