|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

اصحابِ کہف کے واقعے کو قرآن نے کس چیز کی دلیل کے طور پر بیان کیا؟

No media found.

قرآنِ کریم نے اصحابِ کہف کے واقعے کو اللہ کی قدرتِ کاملہ اور قیامت میں دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر بیان کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيْمِ ۙ كَانُوْا مِنْ اٰيٰتِنَا عَجَبًا۝
کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ بےشک کہف (غار) اور رقیم (کَتبے) والے ہماری نشانیوں میں سے کوئی عجیب (نشانی) تھے ؟
(الکہف: 9)

یہ نوجوان ایمان والوں کا ایک گروہ تھا جو اپنی قوم کے شرک اور بادشاہ کے ظلم سے بچنے کے لیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے غار میں پناہ گزین ہوئے۔ اللہ نے ان پر 300 سال سے زائد تک نیند طاری کر دی، پھر انہیں بیدار کیا تاکہ دنیا دیکھے کہ جس نے سوئے ہوئے انسان کو صدیوں بعد زندہ کیا، وہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو دوبارہ اٹھا سکتا ہے۔

جیسا کہ فرمایا
وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا
اور اسی طرح ہم نے انہیں (دوبارہ) ظاہر کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں۔
(الکہف: 21)

یہ واقعہ اہلِ ایمان کو یہ سبق دیتا ہے کہ جب بندہ خالص توحید کے ساتھ اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے ہر فتنہ اور ظلم سے بچا لیتا ہے، چاہے زمانہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو۔

Video Short Clips

Log In to Your Account