آئمہ و مشائخ کے اقوال کو وحی یعنی قرآن و سنت کے مقابلے میں ماننا جائز نہیں، بلکہ یہ گمراہی اور شرکِ طاعت کی ایک صورت ہے۔ دین میں شریعت سازی کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا کہ
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا
انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا، اور مسیح ابنِ مریم کو بھی، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ صرف ایک ہی معبود کی عبادت کریں۔
(التوبہ: 31)
جب رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا
أليس يحرمون ما أحل الله فتحرمونه، ويحلون ما حرم الله فتحلونه؟ قالوا بلى. قال فتلك عبادتهم
کیا وہ لوگ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام نہیں کرتے اور تم بھی اسے حرام کر لیتے ہو، اور اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال نہیں کرتے اور تم اسے حلال کر لیتے ہو؟ صحابہؓ نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہی ان کی عبادت ہے۔
(سنن ترمذي:كتاب تفسير القرآن:حدیث: 3095)
لہٰذا جو شخص ائمہ، مشائخ، یا کسی پیر کے قول کو قرآن و سنت پر مقدم رکھتا ہے، وہ وحی کی اتباع سے ہٹ کر بندوں کی اطاعت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اہلِ ایمان کی راہ یہ ہے کہ جب کسی امام یا شیخ کا قول نبی ﷺ کے فرمان کے خلاف ہو تو امام کا نہیں بلکہ نبی ﷺ کا قول لیا جائے، وحی کے مقابلے میں کسی انسان کا قول ماننا، ایمان کے منافی اور توحید کے خلاف عمل ہے۔