مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سوال
سوال کیا گیا ہے کہ شادی یا دعوت ولیمہ کے موقع پر جو لوگ تحفہ تحائف دیتے ہیں یوں سمجھیں کہ یہ تحفہ نہیں ہوتا بلکہ قرض ہوتا ہے جو کہ بعد میں ادا کرنا ہوتا ہے اس رسم کے بارے میں کیا حکم ہے مدلل جواب سے ہماری رہنمائی کیجئے؟
:جواب
قران و حدیث سے یہی چیز ہمارے سامنے آتی ہے کہ مومنوں کی تمام زندگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے نقش قدم کی پیروی ہونا چاہیے ہمیں جو چیزیں وہاں سے ملتی ہیں، جو کام ہمیں وہاں سے ملتے ہیں، شادی بیاہ پہ سب اللہ کے حکم کے مطابق یہ سب اگر سنت کے مطابق کیے جائیں تو یہ عبادت میں شامل ہیں اور سنت سے منحرف ہو کر ہٹ کر کیے جائیں تو یہ گویا باعث گناہ ہوں گے تو یہ جو کچھ کیا جاتا ہے ہمارے ہاں تقریبات میں یہ رسومات ہیں جس کا زیادہ حصہ ہندوؤں سے ملا ہے ورثے میں اور ایمان کے ساتھ ہمیں تو تمام چیزوں سے نفرت ہونی چاہیے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ
مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ (سنن ابوداؤد:جلد سوم:لباس کا بیان:حدیث نمبر 640)
جو کسی قوم کی نقل کرتا ہے ان کے طریقے پر چلتا ہے وہ انہی میں شمار کیا جائے گا ہمیں تو بالکل شعوری طور سے ایک ایک ان کی بری رسومات کو جو سنت کے خلاف ہیں ان کو ترک کرنا چاہیے اب یہ شادی بیاہ میں تحفے تحائف دینا ویسے تحفے تحائف دینا اس کو بہت ہی پسند کیا گیا ہے۔ ہدیہ، تحفہ تحائف دینا اس سے اپس میں مومنوں کی محبت بڑھتی ہے ایک دوسرے کے دل میں تعلق گویا آپس میں ان کے تعلقات میں قلبی لگاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ اس میں زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کے لیے تحفے تو اپ بہت اچھی چیز ہے لیکن خصوصی طور پر یہ شادی کے موقع پر تو یہ اسلام میں ایسی کوئی چیز نہیں ملتی کہ شادی کے موقع پر صحابہ کرام تحفے تحائف دیتے ہوں اس لیے ہمیں اسے گریز کرنا چاہیے۔ باقی یہ کہ اس سے پہلے ہم کچھ ایسا کر لیں کچھ کتابیں ہیں قران ہے حدیث ہے کی کتاب ہے ایسا دے دیں کوئی لڑکا ہے لڑکی ہے جن کے نکاح ہو رہا ہے وہ اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کر رہے ہیں تو ان کو ایسی کتابیں دی جائیں جو ان کے گھر کے اندر ہوں جس کو وہ مطالعہ کا شوق ہو اس نظر سے اگر اپ دیں تو ان شاءاللہ اس کا کوئی مخصوص پہلو ہے یہ اچھی چیز ہے باقی یہ کہ ویسے تحفے تحائف اور دنیاوی چیزیں دینا یا رقم کی شکل میں دینا یا اس کو بدلا کے اس نے ہمیں دیا ہے تو اس کو ہم دیں اس کو تو بالکل ہی ختم ہونا چاہیے کہہ دینا چاہیے کہ کوئی لے ائے تو اس کو منع کر دینا چاہیے کہ اپ بھئی یہ تحفے تحائف نہیں تو یہ چیزیں کھانے پہ آپ دعوت دے رہے ہیں کسی کو تو اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں پیسے کی شکل میں یا تحفے کی شکل میں تو ایسی چیزیں جو یہود کی رسم ہیں ان کو ترک ہونا چاہیے۔