|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قرآن میں ستارہ پرست کا ذکر آیا ہے، کیا ان کو ان کے اعمال کی جزا ملے گی؟

مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)

:سوال

قرآن میں ستارہ پرست کا ذکر آیا ہے، ان کو ان کے عملوں کی جزا دی جائے گی؟ تفصیلاً بتائیں۔

:جواب

 یہ تو اصل میں کافر مشرک ہیں، ستارہ پرست ہوں یا شمس پرست (سورج کی پوجا کرنے والے) ہوں یا قمر پرست (چاند کی پوجا کرنے والے) ہوں، یہ سب افلاک کے پجاری، غیر اللہ کے پجاری، مٹی کے ڈھیروں کے پجاری، یہ سب کفر و شرک کرنے والے ہیں۔ ان کی سزا جہنم ہے جہاں ہمیشہ رہیں گے، ان کے اوپر جنت حرام ہے۔

تو یہ، یہ سب ایک ہی زمرے میں آتے ہیں، کواکب پرست۔ کواکب، کوکب، سیارے، ستارے سب آتے ہیں اس زمرے میں، ان کی پوجا کرنے والے۔ مخلوق کی پوجا، ابراہیم علیہ السلام نے یہی تو بتایا:  ظالمو! مخلوق کی پوجا کرتے ہو؟  جو عروج اور زوال کا شکار ہے، جس نے ان کو بنایا ہے، جو ان کو عروج دیتا ہے، عروج کے بعد زوال دیتا ہے، جو ان کو روشنی دیتا ہے، بعد میں ان کی روشنی کو مانند کر دیتا ہے، ان کے خالق کی عبادت کیوں نہیں کرتے ہو تم؟ تو خالق کے ساتھ مخلوق کو شریک کرنے والے، یہ کافر اور مشرک، ان کے لیے جہنم ہے، تو قرآن کا ایک بنیادی مضمون ہے یہ، مرکزی مضمون ہے۔

ان کے اعمال کی سزا، ان کے اعمال سب حبط (ضائع) کر دیے جائیں گے۔ سورہ کہف میں یہی بات بتائی گئی ہے کہ:  قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا۝ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا۝ (الکھف:۱۰۳،۱۰۴)  ان سے کہو کہ ہم تمہیں بتائیں کہ عمل کرنے والے خسارے میں جانے والے، خسارے کا سودا کرنے والے، خسارے کے گھڑے میں گرنے والے کون ہیں؟ جن کی کوششیں بیکار جا رہی ہیں، ضائع ہو رہی ہیں، ان کے اعمال سب ضائع ہو رہے ہیں۔  ضَلَّ سَعْيُهُمْ  بھٹکے ہوئے ہیں راستے سے۔ اب ان کی سب کوششیں بھٹکے ہوئے راستے پر ہیں تو اس لیے منزل تک نہیں پہنچ سکتے وہ۔

اور فرمایا:  فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا   ۝ (الکھف: ۱۰۵)ہم قیامت کے دن ان کا عمل کو تولنے کے لیے میزان ہی قائم نہیں کریں گے۔  أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ (الکھف: ۱۰۵)  انہوں نے اللہ اور رسول، اللہ کی آیات کا انکار کیا، اللہ کے رسول کا انکار کیا، تو ان کے سارے اعمال حبط کر دیے گئے، غارت کر دیے گئے۔ یہ ان کے کفر کی سزا ہے اور اس بات کی کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کی آیات، اللہ کے رسولوں کا مذاق اڑایا اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا، یہ ان کی سزا ہے، تو ان کے اعمال سب رائے گاں ہیں۔  عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ۝ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً  ۝ (الغاشیہ:۳، ۴)عمل کرتے کرتے یہ تھک گئے اور جہنم کے اندر اتر گئے۔ 

Video Short Clips

Log In to Your Account