|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

نظر لگ جانے کے بارے میں کیا حقیقت ہے؟

مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)

:سوال

نظر لگ جانے کی کیا حقیقت ہے؟

:جواب

 یہ نظر جو ہے شرور الامور میں سے، شر الامور میں سے ہے۔ جیسے شیطانی وسوسے ہوتے ہیں، اسی طرح یہ نظر ہے۔ سحر، نظر یہ تمام شر الامور ہیں اور شیطانی امور ہیں یہ۔

​ہمیں کسی کے بارے میں کسی کو بری نظر سے دیکھنا چاہیے نہیں چاہیے نہ حسد کی نظر سے دیکھنا چاہیے کسی کو۔ مومن کے کا دل پاک ہوتا ہے، وہ اچھی چیز کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، اسی لیے ہم کسی اچھے بچے کو دیکھیں جو پیارا لگے۔ پیار آئے، محبت آئے دیکھ کے اس کو تو اس پہ ہم ‘ماشاء اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ’ کہیں، یہ نظرِ بد کا توڑ ہے یہ سمجھیے۔ ‘ماشاء اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ’ یا ‘اعوذ باللہ من کلمات اللہ التامات من عین لامۃ’۔ یہ اس قسم کے کلمات جو ہیں یہ بتائے گئے ہیں، تو نظر جو ہے ایک شر الامور میں سے ہے، حدیث میں بیان کیا گیا ہے، اس لیے اس کو ماننا چاہیے، صحیح حدیثیں ہیں اور قرآن میں بھی حسد کے بارے میں آتا ہے،  مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ، تو یہ حسد بھی ایسی چیز ہے، تو یہ نظرِ بد جو ہوتی ہے، حسد ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

​جو حسد نہیں ہوتا جہاں، تو وہ کبھی بری نظر سے نہیں دیکھیں گے کبھی بھی۔ وہ ہمیشہ اچھی نظر سے دیکھیں گے، خوش ہوں گے اور اس کو بچے کو دعا دیں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کو طویل عمر عطا فرمائے، صحت عطا فرمائے، مومنانہ اوصاف عطا فرمائے، تو یہ مومنوں کا تو یہ طریقہ ہوتا ہے، اس کے برعکس اگر کوئی حسد کی نظر سے دیکھتا ہے، تو اس سے بہتر یہی ہے کہ ایسے کلمات پڑھ لیے جائیں۔

Video Short Clips

Log In to Your Account