|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا کوئی مؤمن آدمی کسی مشرک ہمسائے سے روزہ افطار کر سکتا ہے؟

مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)

:سوال

اگر مومن آدمی کسی پڑوسی مشرک سے روزہ کھولنے کے لئے یا اللہ کے واسطے کوئی چیز لے سکتا ہے؟

:جواب

اللہ کے واسطے مشرک سے کوئی چیز نہیں لینی چاہیے. جہاں تک پڑوسیوں کے ساتھ کھانے پینے کا تعلق ہے، تو اہلِ کتاب کے ساتھ اس بات کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ ان کا ذبیحہ حلال ہے، اس لیے ہم ان کا کھانا کھا سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ تعلق رکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہمیں انہیں اللہ کے دین کی دعوت دینے، ان کے سامنے قرآن و حدیث پیش کرنے کا موقع ملتا ہے؛ لہٰذا رابطہ رکھنا چاہیے اور یہ پڑوسی کا حق بھی ہے۔

تاہم، اللہ کے واسطے (مشرک سے کچھ مانگنے) کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے مومن بہت غیور ہوتے ہیں اور ان میں ایمان کی غیرت ہوتی ہے، وہ اللہ کے سوا کسی اور سے کچھ نہیں لیتے۔ البتہ، جو ہمارے ضرورت مند ساتھی ہوتے ہیں، ان کے لیے تنظیم کی طرف سے مدد کا اہتمام و انتظام کیا جاتا ہے، تو اسی پر اکتفا کرنا چاہیے اور کسی دوسری طرف سے لینے کا کبھی سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account