|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

مسلک پرستی والے اسکول میں بچے کا داخلہ کیسا ہے؟

مجیب: سابقہ امیر جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)

:سوال

میرے چھوٹے بیٹے نے کہا کہ میں نے اقراء اسکول میں داخلہ لینا ہے، میں نے ایک ساتھی سے کہا جو بزرگ بھی ہیں، کیا میں بچے کو اقراء اسکول میں داخل کرا سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، فرقے والے اسکول میں داخل کرانا کرنا نہیں، بلکہ وہ مجھ سے انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں فرقے والے اسکول میں داخل نہیں کرتا۔ میں دوسرے ساتھیوں کے خلاف یہ شکایت کرنا ہے کہ بچے کو فرقے والے اسکول میں ڈال رہے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟ وہ دوسروں کو بڑھا چڑھا کر شکایت، میرے خلاف شکایت حدیث سے ثابت کریں۔ یہ ایک مومن کسی دوسرے مشرک کی باتوں میں آ کر بغیر تحقیقات کیے ہوئے کہتا ہے کہ یہ منافق ہے۔

:جواب

یہ سب باتیں ایسی نہیں ہیں، ایسی باتیں نہیں کرنا چاہیے، جو اس قسم کی باتیں کرتا ہے۔ ایک بات تو یہ اپنی جگہ ہے کہ اگر فرقے کے پرستاروں میں آپ بھیجیں گے اپنے بچوں کو، بچوں کو بے پڑھا لکھا رکھا جائے وہ بہتر ہے، ان اسکولوں میں بھیج کر ان کو دیوبندی بنانا، اہلحدیث بنانا اور دوسرے مسالک کے جھولی میں ڈال دینا، ان کی گود میں دے دینا، یہ قطعاً مناسب نہیں ہے۔ آپ کے جو بھی وسائل ہیں، آپ کی مساجد ہیں، ان میں ہمارے ساتھی وقت دیں اور بچوں کو قرآن کی تعلیم دیں، باقی رہی ہے دنیا کی تعلیم، تو اس کے لیے آپ بھیج سکتے ہیں، وہ تمام اسکول سب ایک سے ہیں، کہیں بھی آپ پڑھائیں تاکہ وہ وہاں کی تعلیم، عصری تعلیم حاصل کر کے اپنی معاش کے لیے بندوبست کرے۔باقی یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی تعلیم کے لیے ہمیں خود ہی اس کا انتظام کرنا ہے، ہمارے مراکز میں ہو یہ انتظام، وقت دیا جائے اس کے لیے، یا جو بھی ہمارے وسائل ہیں ان کے تحت اپنے تربیتی پروگراموں سے فائدہ اٹھائیں ہمارے ناظمین اور اس کے بعد اپنے اپنے مراکز میں اس کی تعلیم دیں۔

Video Short Clips

Log In to Your Account