مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سوال
ہماری اگر مسجدوں کی محراب ہیں بلکہ تمام مسجدوں کی محراب ہیں، تو کیا یہ گنبدِ خضراء کا تو نقشہ نہیں پیش کرتے؟
:جواب
ہمیں ایسے محراب نہیں بنانے چاہیں جس میں گنبدِ خضراء والا معاملہ ہو۔ گنبدِ خضراء کی جو ایک خاص شکل ہے کہ اس کا تھوڑی گولائی ہوتی ہے، پھر اس کے بعد اس کی گولائی میں تھوڑا سا اس قسم کا وہ ہوتا ہے اور اس میں وہ ایک اوپر کلغی وغیرہ بنی ہوتی ہے، تو یہ شکل نہ ہماری چٹائیوں کی ہونی چاہیے، نہ ہمارے محرابوں کی ہونی چاہیے۔ ایسی شکلیں ہمارے ہاں نہیں ہونی چاہیے، ہمیں اس اس بت کی جو مدینے میں یہ بت بنا ہوا ہے، جو بہت بڑا بت ہے اج کلمہ گو امت کا، بہت بڑا بت ہے یہ، جس کو خوب مزین کیا جاتا ہے، لوگوں کی لوگوں کے لیے پرکشش بنانے کے لیے۔ یہ جو ہے، حکمران، سعودی حکمران، یہ اس کے بہت بڑے مجرم ہیں، اس گنبد کے نگرانی کرنے والے اور اس کی خدمت کرنے والے۔ ہمیں اس سے نفرت ہے بھائی، ہمیں اس سے نفرت ہونی چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کام پر لعنت بھیجی ہے، جس کام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے، اس کے لیے ہمارے دل میں نفرت کے علاوہ اور کوئی جذبہ نہیں ہونا چاہیے۔
تو نہ ہماری چٹائیوں میں یہ ہونا چاہیے، ہم نے کراچی میں زیادہ تر کوشش یہ کی ہے کہ بالکل سادہ چٹائیاں ہوں ہماری مساجد کے اندر، سادہ چٹائیاں۔ تو اس لیے یہ چٹائیاں ایسی جہاں بھی ہوں، ان کو بالکل تبدیل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے جتنی جلدی ممکن ہو سکے، ایسی چیزوں سے ہمیں نفرت ہونی چاہیے۔ الذین آمنوا اشد حباً للہ، یہ اللہ کی محبت میں شدت کا جو ہے یہ یہ تقاضا ہے۔