|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا خلیفۂ وقت یا امیر یا ناظم اذان دے سکتا ہے؟

مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)

:سوال

کیا خلیفہ وقت یا امیر اذان دے سکتا ہے؟ کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو میں ضرور اذان دے دیتا۔

:جواب

 یہ کس کی حدیث ہے بھائی؟ آپ نے حوالہ نہیں دیا ہے اس کا۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کبھی اذان نہیں دی، ہاں تو یہ تو نبی کی بات اور ہے۔ اس میں ایسا کوئی ہمیں اس قسم کی ملتی نہیں ہے، لیکن یہ آپ نے جو حدیث دی ہے کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو اذان دیتا، یہ بہرحال ابھی خلافت کا بھی معاملہ نہیں ہے، یہ تو نہ خلافت ہے نہ نبوت ہے، اس لیے کوئی امیر ہے، ناظم ہے وہ اگر اذان دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، حدیث میں کوئی ایسا نہیں ملتا۔

​باقی جو اس کی فضیلت ہے، اس لحاظ سے طبیعت چاہتی ہے ہر ایک کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے فضائل بیان کر دیے جائیں تو تم میں سے ہر شخص چاہے گا اذان دینا، یہاں تک کہ قرعہ اندازی کرنی پڑ جائے گی۔

Video Short Clips

Log In to Your Account