مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سوال
کیا آپ اولیاء اللہ کو نہیں مانتے؟
:جواب
جو اولیاء اللہ کو نہیں مانتا ہے تو اس کا ایمان ہی نہیں ہے۔ اللہ اللہ تعالیٰ قرآن میں اولیاء اللہ کا جگہ جگہ ذکر فرماتا ہے: اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا تمہارے ولی اللہ تبارک و تعالیٰ، پھر اللہ کے رسول ہیں، پھر ایمان دار ہیں۔ تو جو اللہ کے ایمان دار بندے ہیں وہ تو اللہ کے ولی ہیں، جو ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہیں، نبی علیہ السلام کی سنت کے اوپر پوری طرح عمل کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خوب قربانیاں دیتے ہیں، اپنی زندگی اس کے لیے وقف کرتے ہیں اللہ کے دین کے لیے، اشاعت کے لیے اس کے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ کَانُوْا یَتَّقُوْنَ
سنو خبردار! اللہ میرے اللہ کے جو ولی ہیں، اللہ کے جو ولی ہیں وہ، ان کے لیے کسی قسم کا خوف اور غم نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور متقی پرہیزگارانہ جنہوں نے زندگی گزاری ہے۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی، کی تمام احکامات کو بجا لائے ہیں، اس کے حکم کے خلاف انہوں نے اس کی نافرمانی نہیں کی ہے، بلکہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے زندگی گزاری ہے۔ یہ اللہ کے ولی ہیں اور جو اللہ کے ولی ہوں ان سے جس کو محبت نہ ہوگی تو وہ اللہ، اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی کا اعلان فرماتا ہے حدیث میں۔ حدیث میں فرماتے ہیں
مَنْ عٰادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ
جو میرے ولی سے دشمنی کرے گا، اس کے خلاف میرا اعلانِ جنگ ہے اور ولی کس طرح ہوتے ہیں؟ ایمان والے، متقی، پرہیزگار اور نوافل کے ذریعے سے اللہ سے قربت حاصل کرنے والے۔ یہ کسی کے واسطے وسیلے کے ذریعے سے نہیں بلکہ نوافل کے ذریعے سے، اعمال کے ذریعے سے، اللہ کی راہ میں قربانیاں دیتے ہوئے، نوافل چاہے صلاۃ کے اندر نوافل ہوں، چاہے صوم کے نوافل ہوں، چاہے صدقات کے نوافل ہوں، کسی قسم کے بھی نوافل، جو عمل فرض سے زیادہ کیا جائے وہ نوافل۔ تو نبی، نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ برابر نوافل کے ذریعے سے مجھ سے تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے سنتا ہے، آنکھ بن جاتا ہوں جس سے دیکھتا ہے، ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے پکڑتا ہے، یعنی اس کے جسم کا ایک ایک حصہ سب بندگی کے رنگ میں اس طرح رنگ جاتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ پھر اس کو معیار، تقویٰ کا معیار تو فرما دیتا ہے، وہ برائیوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہے اور خیر کے کام میں اس کی دلچسپی ہوتی ہے، خیر کے کام سے اس کو محبت ہوتی ہے۔ تو اس طرح سے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میری طرف چل کے آتا ہے میں دوڑ کے آتا ہوں، بہت ہی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ، تشبیہ اور استعارے کے انداز میں یہ بات کہی گئی ہے تو اللہ کے ولیوں کی تو قرآن و حدیث میں اتنی بیان کیا گیا ہے تو کون نہیں مانے گا اس کو؟ جو نہیں مانتا ہے وہ ایمان والے نہیں ہیں۔
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا ۔(النساء:۶۹)
تو جو اولیاء اللہ تھے اللہ تبارک و تعالیٰ کے، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
خَیْرُ الْاُمَّۃِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ (صحیح بخاری:جلد دوم: انبیاء علیہم السلام کا بیان:حدیث نمبر 897 )
سب سے اچھا میری امت کا دور کون سا ہے؟ میرا دور، نبی علیہ السلام کا اور صحابہ کا دور، پھر اس کے بعد جو اس سے ملا ہوا دور ہے، صحابہ اور تابعین کا دور، پھر اس کے بعد تابعین اور تبع تابعین کا دور۔ تین ادوار کے لیے آپ نے فرمایا۔ تو یہ تو بالکل ایسے اولیاء ہیں جن کے بارے میں اگر کسی کو شک ہو تو اس کے ایمان پر شک کیا جائے گا۔