|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

خاموش خیانت

!میرے دوست

کیا تم نے غور کیا کہ متکبر انسان سیدھا سچ کیوں نہیں بول پاتا؟

اس لیے کہ سچ اس کے قد کو چھوٹا کر دیتا ہے، اور متکبر کبھی چھوٹا ہونا برداشت نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ ملمع سازی کرتا ہے، قصے سازی کرتا ہے، آدھی بات کہتا ہے، آدھی چھپا لیتا ہے، تاکہ اس کی برتری کا بت ٹوٹنے نہ پائے۔ مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ سچ چھپانے سے حقیقت نہیں بدلتی، صرف دل سیاہ ہوتا ہے۔

!اے فلاح کے راہی

سچ کو چھپانا ایک خاموش جرم ہے۔

اصل عزت سچ بولنے میں ہے، نہ کہ اپنی انا بچانے میں۔ جس نے تکبر کو تھام لیا، اس نے جھوٹ کو بھی گلے لگا لیا اور جس نے عاجزی اختیار کر لی، اس کے لیے سچ کہنا آسان ہو گیا۔

اس لیے اپنے نفس کو یوں سمجھاؤ کہ

تکبر کو چھوڑ دو، سچ خود بخود زبان پر آ جائے گا اور جب سچ زبان پر آ جائے، تو نہ ملمع سازی کی حاجت رہے گی، نہ جھوٹ کے سہاروں کی۔ کیونکہ عاجزی سچ کو سنوارتی ہے، اور تکبر سچ کو چھپا دیتا ہے۔

!اے تقویٰ کے خواہاں

یاد رکھو! جھوٹ صرف ایک غلط جملہ بول دینے کا نام نہیں، بلکہ سچ کو لاؤ لپیٹ دینا، بات کو گھما پھرا کر پیش کرنا، اور حقیقت پر ملمع چڑھا دینا بھی اسی قبیل سے ہے۔ جب تو بات کو اس انداز سے بیان کرے کہ سننے والا حقیقت تک نہ پہنچ سکے، تب تو زبان سے نہیں بلکہ نیت سے جھوٹ کا ارتکاب کر رہا ہوتا ہے۔

اہلِ دانش جانتے ہیں کہ سچ سادہ ہوتا ہے، اسے سنوارنے اور چھپانے کی ضرورت نہیں پڑتی، جب کہ جھوٹ کو قائم رکھنے کے لیے الفاظ کا جال بنانا پڑتا ہے۔

باتوں کو لاؤ لپیٹ دینا بظاہر حکمت محسوس ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ اعتماد کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جو شخص ہر بات کو توڑ مروڑ کر کہنے کا عادی ہو جائے، اس کی سچائی پر آخرکار خود اس کے قریبی لوگ بھی شک کرنے لگتے ہیں۔ ملمع سازی وقتی فائدہ دے سکتی ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی حقیقت ایک دن ضرور سامنے آتی ہے، اور یاد رکھو تب نقصان صرف جملے کا نہیں رہتا بلکہ کردار کا ہو جاتا ہے۔

بعض اوقات انسان فاش جھوٹ نہیں بولتا، مگر جان بوجھ کر وہ بات نہیں کہتا جو کہنی چاہیے تھی۔ تم بخوبی واقف ہو یہ زہریلی خاموشی بھی امانت میں خیانت بن جاتی ہے، کیونکہ حق کو دبانا دراصل باطل کو تقویت دینا ہے۔ اہلِ علم اس کو بھی نفس کی کمزوری شمار کرتے ہیں، جہاں انسان اپنے فائدے، خوف یا مصلحت کو سچ پر مقدم رکھ لیتا ہے۔ سچ کو چھپانا ایک خاموش جرم ہے۔

لہذا زبان کو سچ کی عادت ڈالو، چاہے وہ سچ وقتی طور پر بھاری ہی کیوں نہ لگے۔ کیونکہ سچ میں وزن ہوتا ہے اور اسی کو دوام ہے۔ جو شخص سچ کے ساتھ کھڑا ہو جائے، اسے الفاظ کے جال بُننے کی ضرورت نہیں پڑتی، اس کا بیان مختصر بھی ہوتا ہے اور معتبر بھی۔ یہی راستہ دل کے سکون کا بھی ہے اور عزت کا سبب کا بھی۔

کیا تم نہیں جانتے کہ جھوٹ، ملمع سازی اور سچ کو چھپانا اکثر تکبر ہی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے؟

یاد رکھ، سچ کبھی انسان کو ذلیل نہیں کرتا، ذلت تو اس وقت آتی ہے جب انسان سچ کو دبانے کے لیے جھوٹ، ملمع سازی اور حیلے اختیار کرتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تکبر، انسان کو حق کے مقابل کھڑا کر دیتا ہے اور نفس خود کو بچانے کے لیے دین، عقل اور اخلاق سب کو قربان کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

!اے قلب و عقل کے مصلح

:پس اب اپنے نفس سے سوال کرو

کیا تو سچ کو اس لیے چھپاتا ہے کہ وہ غلط ہے، یا اس لیے کہ تو اصلاح نہیں چاہتا؟

کیا سچا شخص تجھے اس لیے ناگوار گزرتا ہے کہ وہ کمزور ہے، یا اس لیے کہ وہ تیرے غرور کو توڑ دیتا ہے؟

کیا تو حق کو اس لیے موڑتا ہے کہ حق چھوٹے منہ سے نکلا ہے، یا اس لیے کہ تو اپنے جملے واپس نہیں لینا چاہتا؟

!ہاں ہاں پوچھ لو اپنے نفس سے

کیا سچی بات اس لیے بھاری لگتی ہے کہ وہ سخت ہے، یا اس خوف سے کہ اب تو کس کس کو جواب دے گا ہے؟

کیا تو سچے شخص سے اس لیے بچتا ہے کہ وہ مشکل ہے، یا اس لیے کہ وہ تیری غلطی کو بے نقاب کر دیتا ہے؟

کیا سچے شخص سے انکار عقل کا فیصلہ ہے، یا نفس کی ضد؟

جان لے کہ جو نفس سچ کے سامنے جھکنا سیکھ لیتا ہے، وہی نفس بلند ہوتا ہے، اور جو نفس اپنی بڑائی بچانے کے لیے حقیقت کو موڑتا ہے، وہ بظاہر جتنا بھی اونچا ہو، اندر سے اتنا ہی کھوکھلا ہوتا ہے۔ اہلِ فہم نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ عاجزی علم کی حفاظت ہے، اور سچائی کردار کی۔ اگر یہ دونوں سلامت رہیں تو انسان بچ جاتا ہے، اور اگر یہی ٹوٹ جائیں تو پھر بڑے بڑے دعوے بھی انسان کو نہیں بچا سکتے۔

:لہٰذا اپنے نفس کو آج ہی یہ نصیحت کر دو

اے نفس! سچ کہنے میں گھاٹا نہیں، گھاٹا اسے چھپانے میں ہے۔

تکبر چھوڑ دے، کیونکہ اس کا انجام بھیانک ہے۔

اور سچ کو تھام لے، چاہے وہ تیرے خلاف ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اندر سے سیدھا کر دیتا ہے۔

جو نفس آج جھک گیا، وہی کل سرخرو ہوگا۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا

اے ایمان والو! اللہ تعالٰی سے ڈرو اور سیدھی سیدھی ( سچی ) باتیں کیا کرو ۔(الحزاب:33)

Log In to Your Account