مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سوال
اعتکاف کیسے کیا جاتا ہے وضاحت کریں؟
:جواب
اعتکاف جو کہتے ہیں اپنے آپ کو پابند کر لینا۔ اللہ کی یاد کے لیے، اللہ کے ذکر کے لیے، چاہے یہ ایک تھوڑی بہت دیر کے لیے ہو، کچھ دن کے لیے ہو، لیکن یہ آخری رمضان کے آخری عشرے کا جو اعتکاف ہے یہ مسنون ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کیا کرتے تھے یہ اعتکاف۔ اور یہ آخری جو طاق راتیں ہیں جس میں ایک رات وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اجر کے لحاظ سے، اس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت کے لیے سے زیادہ افضل ہے زیادہ اجر والی ہے، تو اس رات کی تلاش کر لینے کی کوشش کیے جائیے۔ اس میں دعائیں مانگیے، اپنے لیے مانگیے، تنظیم کے لیے مانگیے، اپنے عزیز و رشتہ داروں کے لیے مانگیے، دوست احباب کے لیے مانگیے، اپنی آخرت کے لیے مانگیے، اپنے برکات کے لیے مانگیے، اپنے بچوں کے لیے مانگیے، تو ایسے اچھے قیمتی لمحات ہوتے ہیں، اس کے لیے تو اعتکاف جو ہے، مسجد میں کیے جاتے ہیں جہاں صلوٰۃِ خمسہ ہو، جہاں صلوٰۃ الجمعہ ہو، وہاں اعتکاف کیا جاتا ہے۔