مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سوال
سوال یہ ہے کہ اگر امام رفع الیدین نہ کر رہا ہو، تو مقتدی کو کرنا چاہیے یا نہیں؟ اور اگر امام رفع الیدین کر رہا ہو، تو اگر مقتدی نہ کرے، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
:جواب
دیکھیے، یہ بات صرف اس لحاظ سے بتائی جاتی ہے کہ مقتدیوں کے اوپر، جماعت میں صلاۃ (نماز) ادا کرنے والوں کے اوپر امام کی اتباع، امام کی پیروی جو کچھ امام کرے، وہ کرنا چاہیے ان کو۔ اور امام کے کرنے کے بعد ان کو کرنا چاہیے، امام کی پیروی کے معنی: امام نے اللہ اکبر کہا، اس کے کہنے کے بعد اللہ اکبر کہیں۔ امام رکوع میں گیا، اس کے رکوع میں جانے کے بعد رکوع میں جائے۔ وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر کھڑا ہوا، تو یہ ربنا لک الحمد کہہ کر بعد میں کھڑے ہوں گے رکوع سے۔ تو ہر کام بعد میں کریں گے۔ اور امام اگر رفع الیدین کر رہا ہے، تو دیکھ لیں گے امام کو، امام رفع الیدین کر رہا ہے، یہ بھی کریں گے۔ آگے کی صف والے کر رہے ہیں، تو پیچھے والے بھی کریں گے۔ اور امام اگر رفع الیدین نہیں کر رہا ہے، تو یہ بھی رفع الیدین نہیں کریں گے، یہ امام کی اتباع ہے۔ رفع الیدین کرنا اور رفع الیدین نہ کرنا، دونوں سنت ہیں۔ اس لیے اس میں کوئی نماز کے اوپر کوئی فرق نہیں پڑتا۔