|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

گرِوی کے بارے میں وضاحت کریں؟

مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)

:سوال

گرِوی کے بارے میں وضاحت کریں؟

:جواب

ابھی یہ سوال کیا گیا ہے گروی کے بارے میں۔ اس کو عربی میں رہن کہتے ہیں اور احادیث میں اس کے اوپر باقاعدہ باب باندھا گیا ہے رہن کے اوپر۔

رہن رکھنے والا مرتہن کہلاتا ہے۔ یہ جس کو قرض دیا جائے اور قرض کی رقم ایسی ہو تو ضمانت کے طور پر یا تو کوئی شخصی ضمانت ہو یا کوئی رہن کی چیز ہو، کسی جائیداد کے، مکان کے، زمین کے کاغذات ہوں یا کوئی زیورات وغیرہ ہوں جو بھی چاہیں وہ رہن کے طور پر، گروی کے طور پر رکھے جا سکتے ہیں۔

جو قرض دینے والا ہے دائن، وہ قرض دہندہ کو جس کو قرض دیا گیا ہے، اس کی رہن کی چیز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ہے۔ بس وہ امانت کے طور پر اس کے پاس رکھی رہے گی۔ قرض کے بارے میں جو کچھ بھی معاہدہ طے ہوا ہے کہ اتنے عرصے میں اس طرح واپس کیا جائے گا۔ مدیون جو ہے وہ پابند ہے کہ وہ قرض کو اس عرصے میں واپس کر دے، کیونکہ ایمان والوں کا قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ جب بھی وہ کوئی وعدہ کرتے ہیں، اس کو وفا کرتے ہیں، ایفاءِ عہد کرتے ہیں اور کیے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔

تو اس میں جو کچھ بھی شرائط وہ لکھیں، اس کے لحاظ سے ہی وہ رہن وغیرہ کا جو رہن کی مرتہن اشیاء ہیں، اس کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ ہوگا۔ باقی یہ ہے کہ قرض دینے والا اس رہن کی چیز کو استعمال نہ کرے، ورنہ وہ ایک طرح کا سود ہو جاتا ہے۔ صحابہ کرام میں بھی اس کی بہت احتیاط کی جاتی تھی؛ سواری وغیرہ ہوتی تھی تو اس کو بھی استعمال نہیں کرتے تھے وہ، وہ امانت کے طور پر رکھی رہتی تھی کیونکہ وہ اندیشہ ہوتا ہے سود کا۔ اسی طرح کوئی مکان وغیرہ اگر رہن میں رکھیں تو مکان میں اگر کوئی قرض دینے والا رہے اس میں، تو اس کا کرایہ دے، وہ مکان بطور کاغذات کے ساتھ اس کے پاس امانت کے طور پر رہے۔ تو یہ رہن رکھنے کی تو گنجائش ہے ضمانت کے طور پر، اس کے اطمینانِ قلب کے لیے۔ لیکن یہ ہے کہ اس کو استعمال نہ کیا جائے، بس یہ ہے اس کی صورت۔

Video Short Clips

Log In to Your Account