مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سوال
ایک عورت جو کہ اس دنیا میں اکیلی ہے، اس کا کوئی محرم نہیں ہے اگر وہ، اگر کوئی ہے تو وہ بھی کزن کے بھائی بھتیجے ہیں۔ کیا وہ عورت ان کے ساتھ نکاح کے لیے، حج کے لیے جا سکتی ہے؟
:جواب
نہیں جا سکتی۔ حج کرنا اس کے لیے ضروری نہیں ہے۔ حج اس پر فرض نہیں ہے۔ جس کا کوئی محرم نہیں ہے، اس کے اوپر حج فرض نہیں ہے۔ محرم ہی کے ساتھ جا سکتی ہے۔
البتہ یہ ہے کہ وہ کسی کو دے دے، حج کرا دے، حجِ بدل۔ اس کا امکان ہے، اگر حج، کسی مومن کو، ایمان والے کو جس نے حج کر لیا ہو تو وہ کرا سکتی ہے یا کسی کو بھی دے دے، تو حجِ بدل ہو سکتا ہے اس کی طرف سے۔