!میرے دوست
قرآن کھولنا اور تلاوت کرنا یقیناً بڑی سعادت ہے، مگر یہ سعادت اسی وقت حقیقی بنے گی جب تمہارا عقیدہ خالص توحید پر قائم ہو اور تمہارا عمل سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو۔ جب تمہاری سوچ، تمہاری ترجیحات اور تمہارا بھروسا صرف اسی ایک رب پر ٹک جائے۔
تم صفوں میں کھڑے ہوتے ہو، صوم رکھتے ہو، تسبیح پڑھتے ہو؛ مگر اپنے دل سے پوچھو کہ کیا تمہاری امید واقعی صرف اللہ سے ہے؟ یا مشکل وقت میں دل کا سہارا اس کے فوت شدہ بندوں کو بنا لیتے ہو؟
تمہارے حق میں یہی خیر ہے کہ تم لوگوں کو بندوں کے سہارے سے نکال کر اللہ کے در پر لے آؤ۔ خود بھی اسی در کو مضبوطی سے تھام لو اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلاؤ۔
ایاک نعبد و ایاک نستعین کو صرف زبان کا ورد نہ رہنے دو بلکہ اسے دل کا یقین اور زندگی کا نظام بنا لو۔
تمہارے ہاں اللہ کو چھوڑ کر کس کس کو پکارا جا رہا ہے؟ کوئی قبروں سے امید لگاتا ہے، کوئی زندہ انسانوں کو حاجت روا سمجھتا ہے، اور کوئی دنیاوی طاقتوں کو فیصلہ کن مان لیتا ہے۔ خیرخواہی کے ساتھ یاد رکھو کہ نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ ہے، سننے والا صرف وہ ہے، فریاد رس صرف وہی ہے۔ اگر یہ یقین دل میں کامل نہ ہو تو عبادات کی اصل باقی نہیں رہتی۔
اور جب ایمان اور عقیدہ خالص ہو جائے تو پھر دیکھنا کہ قرآن کھولو، تو ذرا اپنا دل بھی کھول کر دیکھنا۔
صفحات پلٹو، تو کوشش کرنا کہ زندگی بھی پلٹ جائے۔
سحری میں آنکھ کھلے، تو دیکھنا ضمیر سوتا نہ رہ جائے۔
وضو سے چہرہ دھوؤ، تو کوشش کرنا کہ دل بھی دھل جائے۔
تراویح میں کھڑے ہو، تو کاش واقعی رب کے حضور کھڑے ہونے کا احساس جاگ جائے۔
اللہ اکبر کہو، تو کاش دنیا واقعی دل میں چھوٹی ہو جائے۔
آمین بالجہر کہو، تو کاش یقین بھی اس کے ساتھ شامل ہو جائے۔
صوم رکھو تو زبان بھی رک جائے۔
پیاس برداشت کرو تو کوشش کرنا حرام سے بھی پیاس رک جائے۔
بھوک سہے تو کاش حسد، کینہ اور غرور بھی بھوکے رہ جائیں۔
آؤ اس احتسابی کیفیت میں اللہ سے اس کی معیت مانگیں۔
اے اللہ! ہم نے تیرا کلام سنا، ہمیں اپنا لب و لہجہ بھی سننے کی توفیق دے۔
توبہ تو کی، کاش گناہ چھوڑنے کا پختہ ارادہ بھی پیدا ہو جائے۔
آنکھ نم ہوئی، کاش دل بھی پگھل جائے۔
افطار کر کے خوش ہوئے، کاش ٹوٹے دلوں کو جوڑ کر بھی خوش ہو جائیں۔
مسجد گئے، کاش رب تک پہنچنے کا راستہ بھی پا لیا ہو۔
!میرے دوست
رمضان گزر جائے گا۔۔۔
چاند ڈھل جائے گا۔۔۔
صفحات بند ہو جائیں گے۔۔۔
لہٰذا اللہ سے رحم طلب کرو، کیونکہ جس پر اس کا رحم ہو گیا، اس خوش نصیب کا کیا ہی کہنا۔