مجیب: سابقہ امیرِ جماعت محمد حنیف صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)
:سول
:جواب
یہ بات بالکل غلط ہے۔ ہم تو ہر صلاۃ (نماز) کے اندر فاتحہ پڑھتے ہیں، بلکہ فاتحہ کے بغیر تو صلاۃ ہی نہیں ہوتی۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا
لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَاْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ، (صحیح بخاری:جلد اول:اذان کا بیان:حدیث نمبر 727)
صلاۃ نہیں ہوتی اس شخص کی جو فاتحہ نہیں پڑھتا ہے۔ تو صلاۃ کے اندر تو ہم بار بار ہر رکعت میں فاتحہ پڑھتے ہیں، فرض میں بھی، نفل میں بھی، سب میں پڑھتے ہیں۔ باقی یہ کہ مردوں کے لیے، ایصالِ ثواب کے لیے، وہ طریقہ اختیار کرنا جو نبی علیہ السلام سے، صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے، وہ درست نہیں ہے۔