!اے دنیا بھر کے لوگو
!میری بات ذرا غور سے سنو
یہ پندرہ سو سال پہلے کی بات ہے، بذریعہ وحی غیب کی خبریں بتانے والا ایک پیغمبر جو اپنے شہر میں صادق و امین کہلاتا تھا وہ ایک دن کھڑا ہوا اور اس نے لوگوں سے صاف صاف کہہ دیا کہ میں نے آگ دیکھی ہے۔
وہ جو آگ اس نے دیکھی ہے، وہ جہنم کی آگ ہے، دہکتی ہوئی آگ…بھڑکتی ہوئی آگ…جسم و جان سے چمٹ جانے والی آگ…شعلے اگلتی ہوئی آگ تھی۔ جس کے بارے میں صاف کہہ دیا گیا
فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ
میں تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا رہا ہوں۔
(اللیل 14)
ایسی آگ جو دنیا کی آگ سے کہیں زیادہ تیز ہے، اس میں داخل ہونے والوں کے لیے آگ کے لباس ہیں۔۔۔
فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارٍ
کافروں کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جائیں گے۔
(الحج 19)
ایسی آگ جو دنیا کی آگ سے کہیں زیادہ تیز ہے۔۔۔
اس میں داخل ہونے والوں کے لیے آگ کے لباس ہیں…آگ کے بستر ہیں…آگ کے سایبان ہیں…آگ کی چھتریاں ہیں۔۔۔
لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ
ان کے اوپر بھی آگ کے سائبان ہوں گے اور نیچے بھی آگ ہوگی۔
(الزمر 16)
اس میں آگ کی بھاری بیڑیاں ہیں…آگ کی بوجھل زنجیریں ہیں…آگ میں تپائے ہوئے ہتھوڑے ہیں…آگ میں دہکتی ہوئی تختیاں ہیں۔
إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَلَاسِلَا وَأَغْلَالًا وَسَعِيرًا
ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔
(الإنسان 4)
اس میں تھوہر کا درخت ہے۔۔۔
إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ
زقوم کا درخت گناہگاروں کی غذا ہوگا۔
(الدخان 43، 44)
اس میں زہریلے سانپ ہیں۔۔۔ بچھو ہیں۔۔۔اور نہ جانے کیا کیا عذابات ہیں۔ لوگو! میں نے تمہیں آگ سے ڈرایا ہے۔۔۔ آگ سے میں نے تمہیں ڈرایا ہے۔۔۔ آگ سے بچ جاؤ۔۔۔
چاہے کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی کیوں نہ ہو۔۔
!اے عقل والو
!اے ہوش رکھنے والو
اکٹھے بیٹھو۔۔۔
سوچو۔۔۔
غور کرو۔۔۔
اپنے اعمال سے کیا ثبوت دے رہے ہو یا تو یہ خبر جھوٹی ہے۔۔۔
یا ایک دن تمہیں اس انجام سے گزرنا ہے جس کا تمہیں کوئی خوف نہیں۔۔۔
اے آگ کا مذاق اڑانے والو۔۔۔
اے آگ کو جھٹلانے والو۔۔۔
اے ایمان کے باوجود غفلت میں پڑنے والو۔۔۔
:وہ پیغمبر پکار پکار کر کہتا رہا تھا
لوگو! آگ سے بچ جاؤ۔۔۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔
(التحریم 6)
اللہ ہر قوم سے ان کے سامنے بھیجے گئے رسولوں کی دعوت کے بارے میں جواب طلب کرے گا۔
وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمْ الْمُرْسَلِينَ
اور جس دن وہ انہیں (اللہ) پکارے گا اور کہے گا: تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھا؟
(القصص 65)
اس کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟
تم کہاں بھاگو گے؟
کس کے پاس پناہ لو گے؟
کس کو پکارو گے؟
کون تمہاری سفارش کرے گا؟
تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔۔۔
!سنو سنو
یہ ماہ مبارکہ ختم ہونے والا ہے۔۔۔۔مگر ابھی ختم نہیں ہوا۔۔۔
وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ
اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
(آل عمران 131)
تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔۔۔
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔
اگر نہیں جانتے تو جان جاؤ یہ عذاب کیوں ہے؟
کیونکہ انسان نے اپنے رب کو چھوڑ کر دوسروں کو پکڑ لیا۔۔۔
آگ سے بچنا چاہتے ہو تو ہر حال میں ہر قیمت پر شرک کرنا چھوڑ دو۔
اللہ کی غیرت کا حیا کرو اس کی شریعت کا پاس رکھو، اس کے حلال کو حلال مانو، اس کے حرام کو حرام مانو، اس کے باغیوں اور نافرمانوں سے اپنا دینی تعلق توڑ لو جیسے اس نے کہا ہے۔
کافر و مشرک و مرتدین کو اپنا امام بنانا، ان کے پیچھے نمازیں پڑھنا، ان کے پیچھے جمعہ پڑھنا، ان کے صلوۃ المیت ادا کرنا، انہیں اپنی بیٹیوں کے رشتے دینا اور انہیں چندہ دینا چھوڑ دو۔ یہ اللہ کی غیرت کو للکارنا ہے۔
غیر اللہ کو پکارنا، قبر والو سے مانگنا اور اپنا مشکل کشا اور حاجت روا غیر اللہ کو سمجھنا چھوڑ دو۔
تعویذ گنڈوں پر بھروسہ کرنا،اپنی دعاٶں میں فوت شدہ کے وسیلے ڈالنا اور انبیاء و اولیاء کو نفع و نقصان کا مالک سمجھنا چھوڑ دو۔
غیب کا علم مخلوق کو دینا، غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز اور قبروں کے مجاور و گدی نشین بننا چھوڑ دو۔
قبروں کا طواف کرنا، مزاروں کو عبادت گاہ بنانا اور اللہ کے سوا کسی سے مافوق الاسباب استغاثے کرنا چھوڑ دو۔
اللہ کے سوا کسی سے خوف کھانا، اس کے سوا کسی سے امیدیں باندھنا اور غیر اللہ کو کارساز سمجھنا چھوڑ دو۔
،انبیاء و اولیاء کو ہر جگہ حاضر و ناظر ماننا
بدعات کو دین سمجھنا اور دین میں نئی عبادتیں ایجاد کرنا چھوڑ دو۔
قبروں کو برکت کا ذریعہ سمجھنا، پتھروں، درختوں اور دھاگوں سے برکت لینا، جادو ٹونے اور نجومیوں پر یقین کرنا اور قسمت کے ستاروں میں یقین رکھنا چھوڑ دو۔
مردوں سے شفا مانگنا، مخلوق کے نام کی قسم کھانا، جھوٹی گواہی دینا، والدین کی نافرمانی کرنا، اللہ کے سوا کسی کے نام پر ذبح کرنا چھوڑ دو۔
غیر اللہ کی محبت کو اللہ کی محبت پر غالب کرنا، دین میں شخصیت پرستی کرنا اور طاغوتی نظام کی طرفدای کرنا چھوڑ دو۔
قرآن و سنت کے مقابلے میں رسوم کو ترجیح دینا، تصویریں کھینچنا، ویڈیو گرافی کرنا اور شرک کے ماحول میں خاموش رہنا چھوڑ دو۔
توحید کی دعوت سے منہ موڑنا، اللہ کے دین میں شک کرنا، آخرت کے حساب کو ہلکا سمجھنا، توبہ کو مؤخر کرنا اور اللہ کی وعیدوں کو جھٹلانا چھوڑ دو۔
یہ سب وہ راستے ہیں جنہیں اپنایا جائے تو وہ انسان کو جہنم میں لے جاتے ہیں۔
ابھی وقت ہے۔۔۔ابھی رمضان ختم نہیں ہوا۔۔۔
اپنے عقیدے کو درست کر لو۔۔۔ ورنہ آگ کا عذاب بہت سخت ہے۔
عنقریب اللہ تم سے پوچھنے والا ہے وہ رسولوں کی دعوت کے بارے میں جواب طلب کرے گا۔
وَقِيلَ ادْعُوا شُرَكَآءَكُم فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَرَأَوْا الْعَذَابَ ۚ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْأَنْبَاءُ يَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا يَتَسَاءَلُونَ* فَأَمَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسَىٰ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُفْلِحِينَ وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ ۗ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ ۗ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
!اور کہا جائے گا اپنے شریک معبودوں کو بلاؤ، پس وہ انہیں پکاریں گے، مگر وہ (ان کے شریک معبود) ان کی کوئی مدد نہیں کریں گے، اور وہ لوگ عذاب کو دیکھیں گے۔ (کاش!) وہ (دنیا میں) ہدایت یافتہ رہتے۔ اور جس روز (اللہ) انہیں پکارے گا اور کہے گا: تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھا؟ پھر اس دن ان کے لیے (دنیا کی) خبریں بے اثر ہو جائیں گی، پس وہ ایک دوسرے سے سوال نہ کریں گے اور جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کیے امید ہے کہ وہ (قیامت میں) کامیاب لوگوں میں سے ہوگا اور تمہارا رب وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے ان (منکر و مشرک) لوگوں کو اس میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ پاک ہے اللہ، سب اس سے بالا ہے،جنہیں وہ (اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہیں۔
(القصص 65)
قبول کرو یا انکار کرو فیصلہ تمہارے اختیار میں ہے۔