ٹہرجاؤاور اور جائزہ لو تم کیا کر رہے ہو؟
کیا تم روز قیامت چیختے، چلاتے اپنے دونوں ہاتھوں کو چبانا چاہتے ہو؟ کیا تم اس دن کی حسرت و ندامت کو پسند کرتے ہو؟ اگر نہیں۔۔۔۔ کسی قیمت پر نہیں۔ تو لازمی تمہیں اپنی دوستی کی حد طے کرنی ہوگی۔
مت کان دھرو اس شخص کی بات پر جو حق نہ سمجھنے کے لیے اپنے دل و دماغ کو بند کر دے۔ اپنے کفر و شرک کو چھپائے اور اصلاح کے لیے تیار نہ ہو۔ کیوں نہیں پڑھتے تم اس کا شخص کا حال جو اپنی زمین کی زرخیزی پر اتراتا رہا۔ نہیں جانتا تھا کہ عنقریب یہ اکیلا پڑنے والا ہے۔ اس کی زبان پر کفر کا غرور چھایا رہا، انکھوں میں مال کا دھوکہ تھا، دل میں کفر کی محبت تھی۔ ایک رات کا طوفان آیا، ایک بجلی کڑکی، ایک آسمانی آفت نے اس کے باغوں کو جلا کر خاک کر دیا۔ نہریں خشک ہوگئیں، درخت اجڑ گئے، پھل برباد ہوگئے۔ وہ شخص ہاتھ ملتا رہ گیا، سر پیٹتا رہا، چیختا رہا
وَ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمۡ اُشۡرِکۡ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا
!کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا
(الکہف: 42)
لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ نصیحت کا دروازہ بند ہو چکا تھا۔ دولت اور باغ جس پر وہ ناز کرتا تھا، زمین میں ریزہ ریزہ ہو چکے تھے۔ وہ اکیلا رہ گیا، حسرت اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہ رہا۔
!اے مخاطب
کیوں پڑھتے نہیں حال اس شخص کا۔ جس نے دوستی کے روپ میں اپنے مخلص دوست کی پیٹھ میں خنجر اس طرح اتارنا چاہا کہ قریب تھا کہ اسے کافر بنا دیتا۔
اطلاع قرآن یہ آئی کہ وہ دن جب آئے گا جسکا آنا لازم ہے۔ پھر بندہ مومن جب اپنے غلط دوست کو جہنم کے وسط میں دیکھ لے گا اور کہے گا
قَالَ تَاللّٰہِ اِنۡ کِدۡتَّ لَتُرۡدِیۡنِ وَ لَوۡ لَا نِعۡمَۃُ رَبِّیۡ لَکُنۡتُ مِنَ الۡمُحۡضَرِیۡنَ
کہے گا واللہ! قریب تھا کہ تو مجھے (بھی) برباد کر دیتا۔ اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی جہنم میں حاضر کئے جانے والوں میں ہوتا ۔
(الصافات-56، 57)
!اے مخاطب
!جان لو کہ صحبت کوئی معمولی بات نہیں
یہ وہی رشتہ ہے جو دل کے نور کو بڑھاتا یا مدھم کر دیتا ہے۔
یہی وہ صحبت ہے جس نے صحابہؓ کو حق کی راہ پر ثابت قدم رکھا، اور یہی وہ صحبت ہے جس نے بعض کو ہدایت سے روکے رکھا۔
ہاں ہاں یہی وہ صحبت ہے جس کے بارے میں نبی نے فرمایا
آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔
(سنن ترمذی-2378)
!اے سچ کے طالب
اگر تم نے حق کو پہچان لیا، اگر تمہارے دل میں قرآن و سنت کا ذائقہ آ چکا، تو پھر پہچانو اس کو جو تمہیں لمحہ بہ لمحہ برائی کی طرف کھینچ رہا ہے۔ چاہے وہ تحقیق کی آڑ لیتا ہو یا ساٸل بننے کا دعویدار ہو یا فریب کی مہارت دیکھائے، اس کا اثر تب تک محدود ہے جب تک تم اپنے ایمان پر قائم ہو۔
!اے مخاطب
یاد رکھو وہ دوست جو تجھے اللہ اور رسول ﷺ سے غافل کرے، وہ دوست نہیں بلکہ تمہارے ایمان کی آزمائش بن گٸی ہے۔ وہ تجھے وقتی سہولت تو دے سکتا ہے، مگر قیامت کے دن تجھے آگ کے انگارے ضرور تھما دے گا۔ اس کے دام میں آنے والا کافر شخص اپنے دوست کو جہنم میں دیکھ کر چیخے گا
قَالَ یٰلَیۡتَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِیۡنُ
کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی ( تو ) بڑا برا ساتھی ہے۔ (الزخرف: 38)
ایک منظر کشی یہ بھی دیکھو کہ ظالم جب اپنے ہاتھ چباتے ہوٸے کہے گا
یٰوَیۡلَتٰی لَیۡتَنِیۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِیۡلًا لَقَدۡ اَضَلَّنِیۡ عَنِ الذِّکۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِیۡ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا
ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (عین وقت پر) دغا دینے والا ہے۔
(الفرقان-28, 29)
آج سوچ لو کہ تمہاری دوستی کی حد کہاں ہے؟ وہ حد یہ ہے کہ تیرا دوست تجھے اللہ کے قریب کرے۔ اگر وہ ذکرِ الٰہی سے غافل کرتا ہے، تو وہ دوست نہیں، بلکہ تیرے ایمان کا دشمن ہے۔ یاد رکھ! ایمان کی دوستی وہ ہے جو تجھے جنت کی طرف لے جائے۔ جو تیرے لئے دین پر جمے رہنے کا سہارا بنے۔