|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

اختتامِ رمضان: مغفرت کی امید، عدل سے نہیں رحم سے

!نہیں نہیں!  یاد رکھو

عمل کا وزن اُس کے ظاہری کثرت سے نہیں بلکہ پاکیزہ ایمان اور پراخلاص دلی کیفیت سے ہوتا ہے۔ جو عبادت کے بعد خود کو بڑا سمجھنے لگے وہ اپنے اجر کو خطرے میں ڈال دیتا ہے، اور جو عبادت کے بعد بھی اپنے اعمال کو قبولیت کا محتاج سمجھے وہ قبولیت کے قریب ہو جاتا ہے۔ ہم سب کو اللہ سے یہی کہنا چاہیے کہ

!اے میرے رب

ہم ماہ رمضان کے اختتام پر تیرے حضور اس حال میں کھڑے ہیں کہ ہمارے دلوں میں امید بھی ہے اور خوف و ندامت بھی۔ ہم اس مبارک مہینے سے لوٹ رہے ہیں مگر ہمارے ہاتھوں میں اعمال کا وہ سرمایہ نہیں جو تیری رحمت کو ہم پر لازم کرے۔ ہم ایسے صوم لائے ہیں جن میں بھوک و پیاس تو تھی مگر وہ کامل تقویٰ نہ تھا، ایسی صلاة لائے ہیں جن میں قیام تو تھا مگر وہ خشوع کم تھا، ایسی تلاوت لائے ہیں جس میں الفاظ تو تھے مگر دل کی بیداری کم رہی۔ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم تیری بارگاہ میں وہ عمل لے کر آئے ہیں جو اپنی حقیقت میں ناقص، کمزور اور بہت عیب دار ہے۔

اے ہمارے رب! ہم اپنے اعمال پر بھروسا کر کے نہیں آئے بلکہ تیری رحمت کے سہارے آئے ہیں۔ اگر تو اپنے عدل سے فیصلہ کرے تو ہمارے پاس کوئی عذر نہیں، اور اگر اپنے فضل سے نوازے تو یہی ہماری نجات ہے۔ ہمارے تھوڑے سے عمل کو اپنی سخاوت سے بڑھا دے، ہماری کوتاہیوں کو اپنے عفو سے ڈھانپ دے، اور ہمیں اُن بندوں میں شامل فرما جن کے لیے رمضان تیری جدائی نہیں بلکہ قرب کا آغاز بن جائے۔

ہم نے قرآن میں پڑھا ہے کہ جب بھائیوں نے عاجزی کے ساتھ اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا، اور رحم و احسان کی امید باندھی تو بادشاہ جو اکرم الناس تھا اس کا دل پسیج گیا۔ تو اس نے حقیر پونجھی کے بدلے بھی تول پورا دے دیا اور مزید نوازے لگا۔ حالانکہ وہ تو ایک محدود خطے کے بادشاہ تھا، جن کی سلطنت زمین کے ایک حصے تک محدود تھی اور بھی عارضی تھی باوجود اتنے بڑے رتبے کے وہ پھر بھی جگہ جگہ پر قانون کا محتاج تھا۔ اے اللہ! تُو تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے، تیرے خزانے بے انتہا ہیں، تیری رحمت ہر حد سے وسیع ہے۔ تو تو کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے جب ایک چھوٹے سے بادشاہ کے دل میں عاجزی دیکھ کر رحم پیدا ہو سکتا ہے تو تیری جناب میں جھکنے والا بندہ تیرے فضل سے کیوں محروم رہے؟ ہمیں تیری رحمت کی امید ہے پس اے رب! ہماری فقیری کو اپنی سخاوت سے ڈھانپ دے، ہماری بے بسی کو اپنی رحمت سے قوت دے، اور ہمارے تھوڑے سے عمل کو اپنے فضل سے زندہ فرما دے۔آمین

!میرے دوست

رمضان کے بعد مسلسل اپنے ایمان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے دل کو اس طرح سنبھالو کہ نہ تو نیکی پر غرور پیدا ہو اور نہ کمی پر اللہ کی رحمت سے ناامیدی بلکہ ہر حال میں عاجزی، استغفار اور امید و خوف کے ساتھ اپنے رب کے در پر جھکے رہو یہی بندگی کی اصل اور نجات کا راستہ ہے۔

وَ اٰخَرُوۡنَ اعۡتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِہِمۡ خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ  سَیِّئًا ؕ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ

اور کچھ لوگ ہیں جو اپنی خطا کے اقراری ہیں جنہوں نے ملے جلے عمل کئے تھے ، کچھ بھلے اور کچھ برے اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے بلاشبہ اللہ تعالٰی بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے ۔(التوبہ 102)

Log In to Your Account