|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

ضمیر کی گواہی

!آٸیں کچھ دیر سوچیں

ہر لمحہ جو گواہی بن رہا ہے وہ آپکے حق میں ہے یا آپکے خلاف؟

اگر بلفرض، خلاف توقع، ابھی کے ابھی رسول اللہ ﷺ آپ کی ذمہ داری میں اچانک قدم رکھ دیں۔ تو کیا ہوگا؟

!آپ کے منصب میں، آپ کے اختیار میں، آپ کے کاروبار میں، آپ کے جھگڑوں میں، آپ کے گھر میں، آپ کے فیصلوں میں۔۔۔

تو کیا آپ خوش ہو کر کہہ سکیں گے کہ

یا رسول اللہ! دیکھیں میں نے آپ کی سنت پر عمل کیا ہے؟

یا آپ کا دل لرز جائے گا کہ شاید آپکا کردار وہ نہیں جو آپ زبان سے دعویٰ کرتے ہیں؟

!ذرا سوچیے۔۔۔

اگر نبی کریم ﷺ آپ کے گھر، کام اور آپ کے کردار، آپ کے فیصلوں اور آپ کی ذمہ داریوں کے بیچ آجائیں اور ہر بات کا جاٸزہ لینے لگیں۔۔۔۔تو۔۔۔

کیا آپ چاہیں گے کہ وہ ٹھہر جائیں؟

یا آپکا دل چاہے گا کہ وہ جلدی چلے جائیں

تاکہ ہم پھر اپنی پرانی روش پر لوٹ سکیں؟

اگر آپ استاد ہیں، اور رسول اللہ ﷺ آپکی درسگاہ میں داخل ہوں تو آپ کے درس کے الفاظ میں کتنی سچائی باقی رہے گی؟

طلبہ کے ساتھ آپ کا سلوک، آپ کے غصے کی تیزی، آپ کی نصیحت کا معیار کیا سب کچھ رسولِ کریم ﷺ کی نگاہ کے سامنے پورا اتر سکے گا؟ کیا آپ کے شاگرد آپ کے لیے گواہی دیں گے کہ ہمارے استاد نے ہمیں دینِ اسلام امانت سمجھ کر سمجھایا تھا؟

اگر آپ والد یا والدہ ہیں اور وہ ﷺ آپ کے بچوں کے پاس جا کر پوچھیں آپکو ایمان و عقیدہ سیکھایا گیا ہے؟ آپکے گھروں میں صلاة کا حکم دیا جاتا ہے؟ آپکو ادب و اخلاق سکھایا گیا ہے؟ کیا شادی کے وقت بیٹیوں کو مشرک بتا کر مشرکوں کے نکاح میں دے دی؟

تو آپ کیا سمجھتے ہیں جواب آپ کے حق میں ہوگا یا خلاف؟

اگر آپ تاجر ہیں، کیا آپ کے سودوں میں سچائی ہوگی یا چالاکی؟

کیا آپ چاہیں گے کہ وہ ﷺ دیر تک ٹھہر جائیں یا جلدی آگے بڑھ جائیں تاکہ

آپ حسبِ معمول کاروبار کا طریقہ جاری رکھ سکیں؟

اگر آپ کسی ادارے یا خاندان کے امیر، مربّی یا نگران ہیں، اور وہ ﷺ آپ کے سامنے بیٹھ کر آپ کی پالیسی، آپ کی ترجیحات، آپ کے رویّوں، آپ کے معاملات اور آپ کی “امانت داری” کو دیکھیں تو کیا وہ ﷺ مسکرا دیں گے؟

یا آپ کے رونگٹے گھڑے ہو جائیں گے کہ کہیں آپ نے منصب کو خدمت کے بجاٸے، محض رعب اور دبدبہ نہیں بنا لیا؟ کہیں آپ کے فیصلوں میں رشتوں اور عہدوں کی طرف داری، کجی، یا دنیا کا دباؤ شامل تو نہیں ہوگا؟ کیا آپ کا قلم عدل پر چلا یا کسی کے دباٶ پر؟

اگر آپ مصنّف ہیں اور رسول اللہ ﷺ آپکی تحقیق کی امانت کا جاٸزہ لیں تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کا قلم اللہ کے خوف پر چلا یا جگہ جگہ خیانت پر مبنی طرفداری کے داغ، دھبے محسوس کریں گے؟

تو کیا وہ ﷺ آپ کی خلوت کو دیکھ کر کہیں گے یہ میرا امتی ہے؟ یا وہ چہرہ پھیر لیں گے اور آپ نظریں جھکا لیں گے، کہ شاید آپ کی حقیقت کا راز فاش ہوگیا اور آپ کی روش آپکے دعوے سے میل نہیں کھاتی؟

یہ بات اب اور کھل کر سمجھ لیں۔۔۔

رسولُ اللہ ﷺ تو آج ہمارے گھروں، دفتروں، مدرسوں، عدالتوں اور بازاروں میں کبھی نہیں آسکتے، لیکن اللہ ہر چیز دیکھ رہا ہے، اور وہ دل کے راز تک جانتا ہے۔

اسی لیے اصل نصیحت یہ ہے کہ آپکے شاگرد کل اللہ کے سامنے آپکے بارے میں کیا گواہی دیں گے؟

آپکی اولاد کل اللہ کے دربار میں آپکے بارے میں کیا گواہی دے گی؟

آپکے ماتحت، آپکے ملازم، آپکی جماعت کے افراد، وہ آپکے عدل کے بارے میں کل کیا کہیں گے؟

آپکی تجارت آپکے بارے میں کیا گواہی دے گی؟

آپکے فیصلے، آپکے معاملات یہ سب کل اللہ کی موجودگی میں آپکے خلاف یا آپکے حق میں کھڑے ہوں گے۔

یہ وہ لمحہ ہے جس میں کوئی سفارش کام نہیں آئے گی، کوئی ظاہری نمود، کوئی ظاہری پردہ، کوئی بہانہ۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔

اگر کہیں کوتاہی ہے تو پلٹ آٸیں اللہ کی رحمت آپکی بہت شدت سے منتظر ہے۔ ہر لمحہ ایک گواہی بن رہا ہے آپکے حق میں یا آپکے خلاف اور ہر عمل کل خود آپکے سامنے کھلنے والا ہے۔

Log In to Your Account